اسلام آباد (صباح نیوز/آن لائن)چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف کارروائی کے بیانات دینے والے ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرکے پیرکوطلب کرلیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور آئی جی اسلام آباد کو محسن بیگ پر تشدد کی انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا گیا ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دوران حراست تھانے میں کسی بھی ملزم پر تشدد ناقابل برداشت ہے‘دوران حراست تشدد کرنے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘ ملزم کو قانونی چارہ جوئی اور مرضی کے وکلا کی خدمات لینے سے نہیں روکا جا سکتا‘ محسن بیگ پر دوران حراست تشدد اور وکلا سے ملاقات نہ کرنے دینے کے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں‘ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تشدد اور وکلا سے ملاقات روکنے کے الزامات کی انکوائری کریں ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینئر صحافی محسن بیگ پر تھانے میں تشدد کی شکایت پر رپورٹ طلب کرلی جبکہ دہشت گردی اور ایف آئی اے مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔ دائر درخواست میں وکیل اہلیہ محسن بیگ نے موقف اپنایا کہ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ چیف جسٹس آف اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد پیر تک محسن بیگ کے ساتھ ہونے والے واقعے پر رپورٹ پیش کریں‘ کسی جج کو دھمکی دی جاسکتی ہے نہ ڈرایا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم کے علاوہ کوئی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر نہیں کر سکتا، ہمیں معلوم بھی نہیں کہ ملزم خود مقدمہ خارج کرانا چاہتا بھی ہے یا نہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ محسن بیگ کو وکیل سے ملنے دیا جائے۔علاوہ ازیںوفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سینئرصحافی محسن بیگ کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کرتے ہوئے 21 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ فاضل جج محمد علی ورائچ نے کیس کی سماعت کی ۔ تھانہ مارگلہ پولیس نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر صحافی محسن جمیل بیگ کو عدالت میں پیش کیا ۔وکیل عبداللطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس اس کیس میں بری طرح پامال کیا گیا‘ سادہ کپڑوں میں لوگ بغیر سرچ وارنٹ کے محسن بیگ کے گھر گھس گئے۔ لطیف کھوسہ نے سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمے کے نکات عدالت کے سامنے پیش کیے اور کہا کہ مقدمے میں ریحام خان کی کتاب کا لکھا گیا مگر انہیں پکڑا نہیں گیا البتہ گرفتار صرف محسن بیگ کو کیا گیا‘ پکڑنا ہے تو ریحام خان کو پکڑیں، ریحام خان تو وزیرِ اعظم کی اہلیہ رہ چکی ہیں۔ اس موقع پر انسپکٹر ساجد چیمہ نے کہا کہ پستول کی برآمدگی کرنی ہے‘ مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ کیس کی سماعت کے دوران محسن بیگ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ ڈاکو ہیں یا کوئی اور‘ مجھے 15 دن مزید بھی حراست میں رکھ لیا جائے تو مجھے فرق نہیں پڑتا۔ عدالت نے محسن بیگ کے 2 ملازمین اشفاق اور ذوالفقار کو بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
