کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ حکومت کو سی این جی سیکٹر کی اہمیت کا احساس ہے‘ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے اس شعبے کو ملک میں گیس کی کمی کے سبب بند کیا گیا تھا جسے جلد کھول دیا جائے گا۔ حماد اظہر نے یہ بات آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر غیاث عبداللہ پراچہ کی سربراہی میں ملنے والے ایک وفد سے ملاقات کے دوارن کہی۔ اس موقع پر سیکرٹری پیٹرولیم علی رضا، ڈی جی گیس عبدالرشید جوکھیو، ایڈیشنل سیکرٹری ہارون رفیق اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ حکومت سی این جی سیکٹر کے مسائل سے آگاہ ہے اور ان کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر غیاث پراچہ نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز کی بندش سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہوا‘ اگر سی این جی سیکٹر کو گیس درآمد کرنے کی اجازت دی جاتی تو حکومت اور سی این جی مالکان کو بھاری نقصان نہیں پہنچتا جبکہ عوام کو سستا اور ماحول دوست ایندھن میسر رہتا۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی سیکٹر کی بندش کے باعث شہروں میں پیٹرول کا استعمال زیادہ ہوا جس سے فضائی آلودگی بڑھی اور اسموگ کا مسئلہ بن گیا۔ سی این جی کی بندش سے حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں بھی بھاری نقصان پہنچا اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہاں کمپنیوں کا اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔ غیاث پراچہ نے کہا کہ اگر سی این جی سیکٹر کو صرف50 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جائے تو آئل امپورٹ بل میں 84 ارب روپے سالانہ کی کمی آئے گی‘ سی این جی سیکٹر گزشتہ3 ماہ سے بند ہے جبکہ دیگر شعبوں کو گیس فراہم کی جا رہی ہے‘ ہم بھی پاکستان کے شہری ہیں، ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔
