English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وفاقی کابینہ کی پیکا 2016 میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ترمیم کی منظوری

القمر

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی کابینہ پریونشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے حاصل کرلی گئی ہے۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ ترامیم کے تحت سوشل میڈیا پر کسی کو بدنام کرنا قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے گا اور عدالتیں پیکا کے تحت درج مقدمات کے فیصلے 6 ماہ میں دیں گی۔

فواد چوہدری نے اس سے قبل ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘وفاقی کابینہ کو دو اہم قانون منظوری کے لیے بھیجے گئے ہیں، پہلے قانون کے تحت پارلیمنٹیرینز کو انتخابی مہم میں حصہ لینےکی اجازت دی گئی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘دوسرے قانون کے تحت سوشل میڈیا پر لوگوں کی عزت اچھالنے کو قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا ہے، عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ فیصلہ 6ماہ میں کیا جائے’۔

وفاقی کابینہ کو جاری کیے گئے سرکولیشن میں کہا گیا تھا کہ اسلامی جمہوری پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 ون کے تحت تمام شہریوں کی برابری اور بنیادی حقوق کے طور پر قانون کے برابر تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔

سرکیولیشن میں کہا گیا کہ ابھرتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے قانون ڈویژن نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016 میں مخصوص ترامیم کا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے اور اس کو آرڈیننس کے تحت جاری کیا جائے گا کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہو رہا ہے۔

بتایا گیا کہ وزیراعظم نے سمری سرکولیشن کے ذریعے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی اجازت دی اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مذکورہ سمری وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دی۔

یاد رہے کہ پیکا 2016 میں اپوزیشن کی مخالفت کے باجود اس وقت قومی اسمبلی سےمنظور ہوگیا تھا جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں حکومت تھی۔

مسلم لیگ (ن) نے اکثریت کے بل بوتے پر متنازع بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا تھا تاہم اپوزیشن نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانون کے تحت انتظامی عہدیداروں کو غیرضروری اختیارات حاصل ہوں گے، جن کا کسی کے خلاف بھی غلط استعمال ہوسکتا ہے اور مزید یہ کہ ملک میں آزادی اظہار رائے متاثر ہوسکتی ہے۔

قانون میں بتایا گیا تھا کہ مزاحیہ یا طنزیہ مواد کے حامل ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے افسران کو کمپیوٹر، موبائل فون یا کوئی بھی ڈیوائس کھولنے کا اختیار دیا گیا، جس کا مقصد جرم یا الزام پر تفتیش تھا اور بدنام کرنا قابل تعزیر جرم ہوگا۔

نومبر 2020 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پیکا کے تحت سوشل میڈیا کے قوانین مرتب کیے، جس پر ڈیجیٹل رائٹس کے کارکنوں، انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر آف پاکستان اور ایشیا انٹرنیٹ کولیشن نے تنقید کی اور قانون کو وحشیانہ قرار دیا۔

ٹیکنالوجی کی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں اپنی خدمات ختم کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر قواعد میں تبدیلی نہیں کی گئی تو انہیں اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہوگا۔

بعد ازاں اس قانون کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چینلج کردیا گیا اور پہلی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت قواعد پر نظرثانی کے لیے تیار ہے۔

مارچ 2021 میں وزیراعظم عمران خان نے متنازع سوشل میڈیا قواعد پر نظرثانی کے لیے بین الوزارتی کمیٹی تشکیل دے دی۔

مذکورہ کمیٹی نے اگست تک قواعد تیار کرلیے اور 23 ستمبر کو کابینہ کمیٹی برائے قانون سےمنظور کروالیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے 29 ستمبر کو ڈیجیٹل میڈیا رولز میں ترامیم کی منظوری دے دی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے 14 نومبر کو نوٹیفائی کردیا تھا۔

جہانگیر ترین پارٹی کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ احترام کا تعلق ہے، وہ پارٹی کے ساتھ ہیں اور پارٹی کو کبھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

پنڈ داد خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی آواز کو عالمی سطح پر پذیرائی ملتی ہے، سیاسی مخالفین کی آواز عالمی سطح پر نہیں سنی جاتی، عمران خان کے لیول کا کوئی شخص پاکستان میں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف، بلاول، مریم نواز، فضل الرحمٰن، سیاسی بونے ہیں، مریم نواز اگر ملک سے مخلص ہیں اور مثبت سوچ رکھتی ہیں تو اپنا پیسہ پاکستان میں لائیں، شریف خاندان کا پیسہ اگر پاکستان آ جائے تو ملک کے معاشی حالات بہت بہتر ہو جائیں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ابھی ہم نے کافی مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرض لیا ہے جبکہ مریم نواز کے بھائی نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا لندن کا ایک اپارٹمنٹ ہی تقریبا ایک ارب ڈالر کا ہے تو مریم نواز کو چاہیے کہ اپنے والد اور بھائی کو کہیں کہ وہ دولت پاکستان واپس لائیں، اگر یہ دولت پاکستان واپس لائی جائے تو پاکستان کی مالی مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں ان پر ان کے گھر والے اعتماد نہیں کرتے، حکومت مضبوط ہے، وفاق اور نہ ہی پنجاب میں خطرہ ہے، یہ منہ اور مسور کی دال، یہ کیا عدم اعتماد لائیں گے، عدم اعتماد شوق سے لائیں، ان کو منہ کی کھانا پڑے گی، اپوزیشن سینیٹ میں اکثریت کے باوجود ہارتی رہی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ایک عالمی سطح کے لیڈر ہیں، ان کی بات کو دنیا میں سنا جاتا ہے ، ان بات کو عالمی سطح پر اہمیت دی جاتی ہے، اسلامو فوبیا سےمتعلق نکتہ نظر ہو یا خطے کی صورتحال میں وزیراعظم کے موقف کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے، گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان چین کے کامیاب دورے پر گئے جہاں ان کی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔

وزیراعظم عمران خان کے دروہ روس سے متعلق بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ 23 سال کے دوران کسی بھی پاکستانی لیڈر کا یہ پہلا دورہ ماسکو ہے، اور جتنا احترام اور عزت روسی صدر دلادیمیرپوٹن نے وزیراعظم کو دیا اس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ روس بہت اہم ہے، یہ گیم چینجر ثابت ہوگا اور چین کے بعد اب روس کے ساتھ بھی پاکستان کے بہت مضبوط اور گہرے تعلقات قائم ہونے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مراد سعید کے خلاف غلط زبان استعمال کی گئی، پوری قوم مراد سعید کے ساتھ کھڑی ہے، مراد سعید کو سراہتا ہوں انہوں نے آگے بڑھ کر ایف آئی آر درج کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دوسروں کی عزت نفس کا خیال کرنا چاہیے، آزادی اظہار کے نام پر جس طرح مراد سعید کے بارے میں گفتگو کی گئی اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی، دوسروں کی عزتیں اچھالنے والوں کو قانون احترام سکھانا چاہتا ہے تو یہ مثبت بات ہے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی جہلم کے رہنماؤں ،عہدیداروں اور کارکنوں کو کہتا ہوں کہ وہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کریں، پی ٹی آئی نے جہلم کے عوام سے کیے تمام وعدے پورے کیے ہیں اور انشااللہ پی ٹی آئی جہلم کے انتخابات میں کلین سوئپ کرے گی۔

وفاقی کابینہ میں توسیع سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کابینہ میں توسیع اور نئے وزرا کی شمولیت سے متعلق غور و خوض جاری ہے، وزیراعظم کچھ وزارتوں میں وزرائے مملکت تعینات کرنا چاہتے ہیں۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے