English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

۔2018ء کے انتخابات ریاست کے ساتھ واردات تھی، مسلم لیگ ن

القمر

لاہور/ ڈسکہ (نمائندہ جسارت/ صباح نیوز) مسلم لیگ (ن)کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ 2018ء کے انتخابات ریاست کے ساتھ واردات تھی‘ پیٹرول کے بعد اب بجلی 6 روپے فی یونٹ مہنگی کی جا رہی ہے‘ عمران خان عوام کی مزید بددعائیں نہ لیں، گھر جائیں‘ کپتان کو این اوآر نہیں ملے گا‘ صحت کارڈ فراڈ ہے‘حکومت سے نجات کے لیے ا پوزیشن کو ایک ایجنڈے پر اکٹھا ہونا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق ن لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے‘عوام کو مہنگا ترین وزیراعظم قبول نہیں‘عمران خان عوام کی مزید بددعائیں نہ لیں، گھر جائیں۔ ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ ملک اور عوام کا معاشی دیوالیہ اور حکمرانوں کی آمدن میں اضافہ ہوچکا ہے‘ عوام کی سانس بند کرنے والے اقتدار میں رہنے کا حق کھو چکے ہیں‘ پیٹرول بم گرانے کے بعداب بجلی 6 روپے سے زاید مہنگی کی جارہی ہے‘ عمران خان عوام کی مزید بددعائیں نہ لیں اور خدا کا خوف کریں، کاروباری برادری پریشان ہے‘ پونے 4 سال سے حکومت صرف بہانے اور پیسے بنارہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پہلے ہی پیٹرول کی قیمت میں ظالمانہ اضافے سے آٹا چینی، کرائے سمیت ہر چیز کی قیمت کو آگ لگ چکی ہے ‘ حکومت آئی ایم ایف کے مفاد میں قانون سازی کرلیتی ہے‘ عمران نیازی اتحادیوں کو وزارتوں کاریلیف دے سکتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے کچھ نہیں۔علاوہ ازیں ن لیگ کے مرکزی رہنما وسابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 2018ء کے انتخابات ریاست کے ساتھ ایک حادثہ اور واردات تھی جس کی قیمت قوم ادا کر رہی ہے‘ حکومت نے ملک سے گندم، چینی، آٹا سب کچھ چوری کرلیا ہے‘ حکومت سے جانے کے بعد عمران خان کو این اوآر نہیں ملے گا ‘وہ منہ چھپاتے پھریں گے ۔وہ ڈسکہ کلاں میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو زندہ درگو کردیا ہے‘ عوام مہنگائی کے باعث لاچار ہو کر موت کا انتظار کر رہے ہیں‘ صحت کارڈ ایک فراڈ ہے‘ پیٹرول ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے‘ 2018ء کا الیکشن ریاست پاکستان کے ساتھ ایک حادثہ اور ایک واردات تھی‘ اس واردات اور حادثے کی قیمت قوم کا بچہ بچہ ادا کررہا ہے ‘حکومت سے نجات کے لیے ساری اپوزیشن کو ایک ایجنڈے پر اکٹھا ہونا پڑے گا‘ بعد میں دیکھا جائے گا کہ صوبوں اور وفاق میں کون ہو گا‘ اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے