English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جائیداد پر عورتوں کا حق، سندھ بلوچستان میں قانون سازی ہونی چاہیے،کشمالا خان

القمر

کراچی وفاقی محتسب برائے انسداد وتحفظ ہراسیت کشمالہ خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے پی کے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس کے ذریعے خواتین کو جائیداد میں حصہ کا حق دلوا دیا گیا ہے لیکن سندھ اور بلوچستان میں اس حق کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ہوئی یہاں کی باشعور خواتین کو نہ صرف آواز اٹھانا چاہیے بلکہ اپنے پراپرٹی رائٹ کی قانون سازی کے لئے ہر قسم کی جدوجہد کرنا چاہئے۔ خواتین کی ہراسیت کے قانون کے غلط استعمال کا تاثر درست نہیں کسی بھی قانون کا غلط استعمال ہو سکتا ہے مگر اب تک چار ہزار سے زائد ہراسانی کیس کی سماعت ہو چکی ہے 99 فیصد سے زائد کیسز میں خواتین کا الزام درست نکلا اس معاملے میں خواتین جھوٹ نہیں کہتی ۔ اب تک یوسف زلیخا کا کوئی کیس ہمارے سامنے نہیں آیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں “انسداد ہراسانی قوانین” سے متعلق آگہی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا۔ مذکورہ سیشن سے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی پرو وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد، ڈاؤ میڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر صبا سہیل، وائس پرنسپل شمائلہ خالد نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر وائس چانسلر سید نصرت شاہ, ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر فوزیہ پروین، رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق، ڈائریکٹر ریڈیالوجی ڈاکٹر نسرین ناز ، ڈائریکٹر ایڈمیشن ڈاکٹر طیبہ عامر، ڈائریکٹر ایچ آر سید فرحان، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایچ آر پیر مدثر علی شاہ، فوسپا کے ریجنل کمشنر احسن احمد جتوئی، فوسپا کی رجسٹرار فریال شیخ، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن، لیگل ہیڈ نعمان قادری کے علاوہ طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس موقع پر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے محترمہ کشمالہ خان نے کہا کہ 2018 سے اب تک ہم نے خواتین کو ان قوانین سے متعلق آگاہی دی ہے یہی وجہ ہے کہ ہراسانی کے کیسز میں رپورٹ ہونے کی شرح بڑھ گئی ہے ہمارے کام میں پندرہ گنا اضافہ ہوا ہے پہلے پانچ کیسز ماہانہ رپورٹ ہوتے تھے اب 80 کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ کام کی جگہ پر خواتین کو چھونا، گھور کر دیکھنا یا اختیارات کے استعمال میں کسی قسم کا امتیاز برتنا بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے خواتین کو اس قسم کی شکایات کے متعلق فوسپا سے رجوع کرنا چاہیے. انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی میں قائم ہراسانی کمیٹی کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ گزشتہ سال کے دوران ان کے ادارے کے پاس یونیورسٹی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہو رہا ہے اور ہراسانی کے معاملے میں زیرو ٹالرینس برتی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ باقی اداروں میں خواتین کی ہراسانی کے معاملے پر زیرو ٹالرینس ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑے بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ان کے ساتھی کو ہراسانی کیس میں ملازمت سے برطرف کیا گیا جبکہ ایک ادارے سے نائب قاصد کو اپنی گریڈ 19 کی خاتون افسر کو ہراساں کرنے پر بھی نکالا گیا انہوں نے بتایا کہ ایک ینگ اسسٹنٹ کمشنر کو دفتر میں شادی کا پیغام دینے پر ان کے ما تحت کو نوکری سے نکال دیا گیا جبکہ کراچی کی ایک خاتون کو نوکری کا جھانسہ دے کر بار بار اسلام آباد بلانے پر جب کاروائی کا آغاز ہوا تو متعلقہ اعلی افسر بیرون ملک فرار ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خواتین کو مردوں پر فوقیت دینے کی بات کر رہی ہیں نہ ہی ہیں مغرب کی تقلید چاہتی ہیں البتہ خواتین کو مساوی حقوق اور اپنے کلچر کے مطابق عزت و تکریم دینے کی خواہاں ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے حق کو پہچاننا ہوگا اس سلسلے میں ہمارا ادارہ ہر طرح کی سپورٹ میں حاضر ہے انہوں نے زور دیا کہ کام کے مقامات پر کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوسپا کا مقصد کسی بھی قسم کی ہراسگی کو روکنا ہے۔فوسپا میں سادہ فارم پردرخواست دینے کے کسی بھی وکیل کی ضرورت نہیں رہی ، دو مہینے میں کسی بھی کیس کا فیصلہ ہو جاتا ہے زیادہ طویل سماعت میں بھی ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت نہیں رکھا جاتا۔ پروفیسر محمد سعید قریشی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسداد ہراسانی کی وفاقی محتسب کی کارکردگی قابل تعریف ہے ڈاؤ یونیورسٹی میں ہراسانی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے اساتذہ اور طلبہ کو مساوی مواقع حاصل ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہراسانی کے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔پاکستان میں بھی ایک بہادر خاتون، خواتین کو ہراسگی سے تحفظ کے ادارے کی سربراہ ہیں جو خوش آئند ہے انہوں نے کہا کہ “می ٹو” مہم کا آغاز بھی امریکہ سے ہوا اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان جیسے ممالک میں ہراسانی کے واقعات زیادہ ہیں۔تقریب کے کے اختتام پر پروفیسر محمد سعید قریشی نے مہمان خصوصی کو ڈاؤ یونیورسٹی کی جانب سے شیلڈ دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے