English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گلگت بلتستان میں وفاق کے ساتھ انتخابات کرانے کی تیاری

القمر

اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی امجد زیدی اور وزیر اطلاعات فتح اللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف گلگت بلتستان اپنا تین سالہ دور اقتدار قربان کر کے وفاق کے ساتھ انتخابات کرانے جا رہی ہے. گلگت بلتستان میں کئی دہائیوں سے باریاں لینے والی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے دعوے تو کئے لیکن آئینی حقوق سے محروم رکھا تاہم اب وزیر اعظم عمران خان نے اپنے وعدوں کی تکمیل کیلئے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنا کر تاریخ رقم کردیا. گلگت بلتستان کے ساتھ عبوری صوبہ کا لفظاستعمال ہوم تک گلگت بلتستان کو تمام موجودہ سبسڈیز، ٹیکس فری زون اور دیگر اسپیشل مراعات برقرار رہیں گی. وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے کہا ہماری کوشش ہے مسلہ کشمیر کے حل تک عبوری صوبے کے ساتھ ٹیکس میں جو استحقاق حاصل ہے وہ موجود رہے گا. این سی پی گاڑیاں اور گندم سبسڈی برقرار رہے گی. وزیر اعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا جو اب تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکا ہے. تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان جرنلسٹ فورم راولپنڈی اسلام آباد کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی امجد زیدی اور وزیر اطلاعات فتح اللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان عبوری صوبہ کے حوالے سے سوشل میڈیا میں غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں. ہم بڑی خوشی کے ساتھ گلگت بلتستان اور قومی وسیع مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ائیندہ پورے ملک کے ساتھ الیکشن کی طرف جائیں گے اور اپنے اقتدار کی مدت قربان کریں گے. اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی امجد زیدی نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے چند تجاویز پیش کی ہیں ان پر غور کیا جایے گا کوشش کر رہے ہیں کہ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں زیادہ سے زیادہ نشستیں ملیں. ہم گلگت بلتستان کا ہاتھ کاٹ کر نہیں بلکہ اپنی قربانی دے کر اپنی تین سالہ مدت سے قبل ہی عبوری صوبہ بنا کر وفاق کے ساتھ انتخابات کی طرف جائیں گے. اسپیکر گلگت بلتستان نے کہا 75 سال سے گلگت بلتستان کے عوام آئینی دھارے میں شامل ہونے کیلئے جدوجہد کر رہے تھے اور آج وہ مرحلہ آچکا ہے گلگت بلتستان عبوری صوبہ بن رہا ہے. ہم نے وفاقی حکومت اور اداروں کے سامنے اپنے تحفظات بھی رکھے ہیں جب تک گلگت بلتستان کے ساتھ عبوری صوبہ کا لفظ استعمال ہوگا تب تک تمام موجودہ سبسڈیز، ٹیکس فری زون اور دیگر اسپیشل مراعات برقرار رہیں گی. امجد زیدی نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں ہم اپنی مدت پوری کرنے کیلئے الیکشن کی طرف نہیں جانا چاہتے ہیں تو انہیں بتاتے چلیں کہ ہم گلگت بلتستان کے مستقبل کیلئے خوشی خوشی وفاق کے ساتھ الیکشن کی طرف جارہے ہیں. انہوں نے سابقہ اور موجودہ حکومتی ادوار کو دو اشعار میں بتاتے ہوئے کہا کہ سابقہ دور ناامیدی کا تھا اور اب امید افزا دور ہے. ہم نے ماضی اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اصولوں اور قومی مفاد پر قائم رہنا ہے تاکہ بعد میں آنے وال نسلیں یہ نہ کہیں کہ ہم نے کسیے لوگوں کو اسمبلی میں پہنچایا تھا اور کن حالات میں ان معاملات کو قبول کیا. اسپیکر امجد زیدی نے کہامجھے فخر ہے آج تک جن سیاسی جماعتوں بلخصوص پیلزپارٹی اور مسلم لیگ نے باریاں لی وعدے اور دعوے کئے لیکن انہیں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی توفیق نہیں ہوئی. یہ ہمت اور جرت صرف وزیر اعظم عمران خان نے کیا اور گلگت بلتستان کو آئینی حق اور عبوری صوبہ دے کر تاریخ رقم کیا ہے اس کا تمام کریڈٹ تحریک انصاف کی حکومت کو جاتا ہے. وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے کہاکہ گلگت بلتستان کی عوام کا پچھلے 75 سالوں سے دیرینہ مطالبہ، خواہش جو آئین پاکستان میں شامل ہونا ہے اس کیلئے مختف ادوار میں کوششیں اور محنت کی گئی تاہم سیاسی لیڈر شپ کی کمٹمنٹ بہت ضروری ہوتی ہے. اس سے قبل وزرائے اعظم اور الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں کے منشور میں گلگت بلتستان عبوری صوبہ بنانا شامل رہا ہے. کھبی آئینی صوبہ ،کھبی عبوری صوبہ تو کھبی پیکجز اور ایگزیکٹو آرڈرز کی باتیں ہوئیں. وزیر اعظم عمران خان انتخابات سے قبل گلگت آئے تو وہاں قومی دھارے میں لانے کا وعدہ کیا پھر وزیر اعظم بننے کے بعد یکم نومبر کو گلگت بلتستان آئے اور عوام بلخصوص یوتھ کو فوکس رکھتے ہوئے کہا کہ ہم اپکو قومی دھارے میں لارہے ہیں. اور وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے کمیٹی تشکیل دی جس میں حکومت سمیت اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی تھی. تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے گلگت بلتستان اسمبلی سے متفقہ قرداد پاس کہ گئی جس کی روشنی میں وفاق میں ایک کمیٹی وزیر اعظم عمران خان نے تشکیل دی گلگت بلتستان سے وزیر اعلیٰ خالد خورشید اس کمیٹی میں موجود تھے مختلف میٹنگز میں گورنر گلگت بلتستان حصہ رہے جبکہ وزیر امور کشمیر علی آمین گنڈا پور سے لیکر وفاقی وزارت قانون اور وزارت خارجہ موجود رہے جنہوں نے چھے ماہ لگا کر گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے کن نکات پر ترامیم کرنی ہے ان پر غور و غوص کیا ساتھ ساتھ مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پرکھا گیا تاکہ کشمیر کاز کو نقصان دئے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ کیسے بنایا جاسکتا ہے. ہم اس وقت ایسے مقام پر کھڑے ہیں آنے والے دو ماہ میں وزیر اعظم عمران کی طرف سے کئے گئے وعدے کی تکمیل پر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی عبوری صوبہ بنائیں گے. وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان عبوری صوبے کا ڈرافٹ تقریباً مکمل ہوچکا ہے تاہم اب آج ایک اور کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو دیگر معاملات کا جائزہ لے گی بلخصوص این ایف سی ایوارڈ میں گلگت بلتستان بھی حصہ دار ہوگا. گرانٹ ان ایڈ میں بجٹ کو مزید بڑھا کر گلگت بلتستان کو مزید کیا کچھ دے سکتے ہیں اس پر غور ہوگا. عدالتی نظام کےاندر کیا اصلاحات آسکتی ہیں جسیے چیف کورٹ کو ہائیکورٹ میں بدلنا اور سپریم اپیلٹ کورٹ کو سپریم کورٹ کی رجسٹری بنا دی جائے گی. فتح اللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام کو حکومت گلگت بلتستان اور تحریک انصاف کی طرف سے پیغام دینا چاہتا ہوں کچھ لوگ سوشل میڈیا میں منفی پروپیگنڈہ کی طرف جارہے ہیں ان کو بتانا چاہتے ہیں گلگت بلتستان حقیقی معنوں میں صوبہ بننے جارہا ہے. ہم گلگت بلتستان کاغذ لیکر جائیں گے تو ہم سرخروح ہوکر جائیں گے. ہماری کوشش ہے مسلہ کشمیر کے حل تک عبوری صوبے کے ساتھ ٹیکس میں جو استحقاق حاصل ہے وہ موجود رہے گا. این سی پی گاڑیاں اور گندم سبسڈی برقرار رہے گی. ہم نے عوام کا سودا نہیں کرنا کچھ مخالفین سیاسی ہوں یا سو کالڈ نیشنلسٹ ہوں وہ غلط پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. یہ سنہرے الفاظ میں لکھے جانے والا تاریخی فیصلہ عمران خان کی قیادت میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ دیا جارہا ہے. تمام اسٹیک ہولڈرز کی شب و روز کی محنت قابل دید ہے. گلگت بلتستان کی عوام ،این ایل آئی رجمنٹ پاک فوج نے جس طرح ملک کی بقاء اور سالمیت کیلئے قربانیاں دی ہیں وہ مزید مظبوط ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے