کورونا وائرس کے ہر 10 میں سے 4 مریضوں کو چکھنے کی حس سے محرومی کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
کووڈ 19 کے متعدد مریضوں کی جانب سے سونگھے اور چکھنے کی حسوں سے محرومی کا سامنا ہوتا ہے۔
مونیل کیمیکل سینسز سینٹر کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ کے 37 فیصد یا ہر 10 میں سے 4 مریضوں کی جانب سے چکھنے کی حس سے محرومی کو رپورٹ کیا جاتا ہے۔
درحقیقت چکھنے کی حس سے محرومی جزوی یا مکمل ہوسکتی ہے اور یہ وہ علامت ہے جس سے ڈاکٹروں کو کووڈ کے مریضوں کے بہتر علاج میں مدد مل سکتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ اب وقت ہے کہ زبان کا جائزہ لے کر جانا جائے کہ آخر ذائقے کی حس بیماری سے متاثر کیوں ہوتی ہے اور اس کو ریورس کیسے کیا جاسکتا ہے۔
ااس تحقیق کے لیے 241 طبی تحقیقی رپورٹس میں شامل ایک لاکھ 38 ہزار سے زیادہ کووڈ کے مریضوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
یہ افراد 15 مئی 2020 سے یکم جون 2021 کے دوران کووڈ سے متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے 32 ہزار 918 نے بتایا کہ انہیں چکھنے کی حس سے کسی حد تک محرومی کا سامنا ہوا۔
تحقیق کے مطابق مردوں کے مقابلے میں خواتین میں چکھنے کی حس سے محرومی کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ 36 سے 50 سال کی عمر کے افراد اس کو زیادہ رپورٹ کرتے ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ یہ تفصیلات مریضوں کی جانب سے خود رپورٹ اور براہ راست رپورٹس سے حاصل ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ خود رپورٹ کرنا زیادہ بہتر طریقہ کار ہے اور اس کے لیے سوالناموں، انٹرویوز، طبی ریکارڈز وغیرہ کی مدد لی جاتی ہے،جبکہ براہ راست جانچ پڑتال زیادہ معروضی ہے اور اس کے لیے میٹھے، نمکین اور دیگر کٹس کی مدد لی جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق براہ راست جانچ پڑتال کی طرح خود رپورٹ کرنا بھی ایک اچھا طریقہ کار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خود کی جانے والی رپورٹس براہ راست اقدامات کو سپورٹ کرتی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ چکھنے کی حس سے محرومی کووڈ کی ایک حقیقی اور نمایاں علامت ہے، جس کو سونگھنے کی حس سے ملایا نہیں جانا چاہیے۔
کووڈ ویکسینز دوبارہ بیماری سے بچانے کیلئے بہت زیادہ مؤثر
کووڈ ویکسینز سے لوگوں کو اس بیماری سے دوبارہ بیمار ہونے کے حوالے سے دیرپا تحفظ ملتا ہے۔
یہ بات 2 نئی طبی تحقیق رپورٹس میں سامنے آئی جن کے نتائج طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد فائزر ویکسین کی کم از کم ایک خوراک استعمال کرتے ہیں تو ان میں دوبارہ بیماری کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق 16 سے 64 سال کی عمر میں دوبارہ بیماری سے تحفظ کے لیے ویکسین کی افادیت 82 فیصد جبکہ 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں 60 فیصد تھی۔
اس تحقیق کے لیے ڈیٹا اسرائیل میں کورونا کی قسم ڈیلٹا کی لہر کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ نتائج اس پالیسی کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد بھی لوگوں کو ویکسینیشن کرانی چاہیے بالخصوص وہ مقامات جہاں ڈیلٹا قسم اب بھی باعث تشویش ہے۔
اس تحقیق میں 83 ہزار سے زیادہ ایسے افراد کے الیکٹرونک ہیلتھ ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جو کووڈ کو شکست دینے کے بعد فائزر ویکسین کی کم از کم ایک خوراک استعمال کرچکے تھے۔
ان افراد کے نتائج کا موازنہ لگ بھگ 66 ہزار ایسے افراد سے کیا گیا جو بیماری کو تو شکست دے چکے تھے مگر ویکسینیشن نہیں کرائی تھی۔
تحقیق کے دوران ویکسینیشن کرانے والے 83 ہزار 356 میں سے 354 افراد کو کووڈ کا دوسری بار سامنا ہوا، یہ شرح 0.4 فیصد تھی۔
اس کے مقابلے میں ویکسینیشن نہ کرانے والوں میں یہ شرح 3.5 فیصد تھی۔
ایک الگ تجزیے میں محققین نے دریافت کیا کہ ویکسین کی دوسری بار بیمار ہونے سے بچانے کے لیے افادیت بیماری کے بعد ایک خوراک یا 2 خوراکیں استعمال کرنے والوں میں یکساں تھی۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں میں وائرس کا سابقہ تجربہ ممکنہ طور پر ویکسین کی ایک مکمل خوراک جیسا کام کرتا ہے اور انہیں زیادہ ٹھوس اور طویل المعیاد مدافعتی ردعمل فراہم کرتا ہے۔
دوسری تحقیق برطانیہ کے یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی تھی جس میں طبی ورکرز میں کووڈ ویکسینیشن کی افادیت اور دورانیے کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔
تحقیق میں شامل کچھ افراد پہلے اس بیماری سے متاثر ہوچکے تھے اور سب افراد کی ٹیسٹنگ ہر 2 ہفتے مین ہوتی جبکہ ایک ماہ میں ایک بار اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی کی جاتی۔
35 ہزار سے زیادہ افراد پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ سے صحتیاب ہونے والے 27 فیصد افراد میں ایٹن باڈی زموجود تھیں، ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے 95 فیصد افراد میں اینٹی باڈیز موجود تھیں۔
دسمبر 2020 سے ستمبر 2021 کے دوران رضاکاروں کے اس گروپ میں سے 2747 پہلی بار جبکہ 210 دوسری بار کووڈ سے متاثر ہوئے۔
ایسے افراد جن میں کبھی کووڈ کی تشخیص نہیں ہوئی، ان میں فائزر ویکسین کی افادیت دوسری خوراک کے استعمال کے 2 سے 10 ہفتوں کے بعد 85 فیصد رہی جو 6 ماہ بعد گھٹ کر 51 فیصد تک پہنچ گئی۔
محققین کے مطابق ویکسین کی افادیت میں کمی برطانیہ میں ڈیلٹا قسم کی لہر کے دوران ہوئی۔
اسی طرح ایسٹرا زینیکا ویکسین استعمال کرنے والوں میں دوسری خوراک کے 2 سے 10 ہفتوں بعد اس کی افادیت 58 فیصد تھی جس میں زیادہ طویل عرصے تک کمی نہیں آئی۔
اس کے مقابلے میں ویکسینیشن نہ کرانے والے ایسے افراد جو بیماری کا سامنا کرچکے تھے، ان میں کووڈ کے خلاف مدافعت ایک سال بعد نمایاں حد تک کم ہوگئی۔
تحقیق کے مطابق بیماری کے بعد ویکسینز کا استعمال کرنے والوں میں ویکسینیشن کی افادیت 90 فیصد رہی، ایسے افراد میں بھی یہ شرح تھی جن کو بیماری کا سامنا کیے 18 ماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا تھا۔
محققین نے کہا کہ ویکسین کی اضافی خوراک کا اسٹرٹیجک استعمال مدافعت میں کمی کو دور کرسکتا ہے جس سے بیماری اور وائرس کے پھیلاؤ کا امکان بھی کم ہوسکتا ہے۔
منبع: ڈان نیوز
The post کورونا کے ہر 10 میں سے 4 مریضوں کی چکھنے کی حس ختم ہوجاتی ہے، تحقیق appeared first on شفقنا اردو نیوز.
