حجاب تنازع کی درخواست گزار طالبہ کے اہل خانہ پر ڈیڑھ سو آرایس ایس غنڈوں نے دھاوا بول دیا.
حجاب پر پابندی کے خلاف درخواست دائر کرنے والی طالبہ ہاجرہ شفا کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ان کے بھائی پر آر ایس ایس کے غنڈوں نے حملہ کیا، انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ حجاب کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں. ہاجرہ نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ہاجرہ نے کہا کہ “میرے بھائی پر ہجوم نے صرف اس لیے بے رحمی سے حملہ کیا کہ میں اپنے حجاب کے لیے لڑ رہی ہوں، جو میرا حق ہے۔ ہماری املاک کو بھی برباد کیا گیا، کیوں؟ کیا میں اپنا حق نہیں مانگ سکتی؟ ان کا اگلا شکار کون ہوگا؟ میرا مطالبہ ہے کہ سنگھ پریوار کے غنڈوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘‘
مقامی مسلم ایکٹیوسٹ مسعود منا نے بھی اوڈوپی پولیس سے مجرموں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سیف (ہاجرہ کے بھائی) پر اُڈوپی میں سنگھ پریوار کے 150 غنڈوں کے ہجوم نے حملہ کیا تھا۔ اسے اس لئے نشانہ بنایا گیا کیوںکہ اس کی بہن ہاجرہ شفا اپنے حقوق، اپنے حجاب کے لیے لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف میری بلکہ میرے اہل خانہ کی جان بھی خطرے میں ہے۔ ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ نوجوان سیف اڈوپی کے اسپتال میں داخل ہے۔ کرناٹک کے ڈی جی اور اڈوپی پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ “حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔” ایک اور درخواست گزار اے ایچ الماس نے کہا کہ ہاجرہ شفا کے بھائی سیف پر بھیڑ نے وحشیانہ حملہ کیا اور املاک کو بھی تباہ کر دیا گیا، صرف اس لیے کہ وہ ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے اور اپنا حق مانگ رہی ہے؟ ان کا اگلا شکار کون ہوگا؟ میں سنگھ پریوار کے غنڈوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ کرناٹک عدالت میں تاحال حکومتی وکیل کے دلائل جاری ہیں جبکہ یہ معاملہ سڑکوں پر گھمبیر صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے .
