English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بڑھتی مہنگائی میں دھنسے عوام

القمر

تحریر : آفتاب مہمند

گزشتہ دنوں اتفاقا ایک چھولے فروش سے پوچھا کہ چھولے کیوں مہنگے ہو گئے ہیں؟ اس کا جواب تھا کہ اور تو چھوڑیں صرف سرخ مرچ گزشتہ تین سالوں کے دوران 180 روپے سے بڑھ کر 800 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
اسی طرح ایک روز ایک نانبائی سے پوچھا مانتے ہیں کہ مہنگائی ہے لیکن جب آٹے کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں پھر روٹی کا وزن بہت کم کر دیا جاتا ہے۔ جواب ملا جب دیگر تمام تندور والے ایسا کرتے ہیں پھر میں بھی تو وہی کروں گا۔

پشاور کے ایک دوست صحافی نے گزشتہ دنوں فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ آج تو آفس جاتے ہوئے رکشے والے ڈبل سے زیادہ کرایہ مانگ رہے ہیں جس پر کسی فیس بک صارف نے لکھا کہ رکشہ والوں کو بھی موقع ملا ہے اسلئے وہ بھی قصاب بن گئے ہیں۔ نارمل دنوں میں بھی ہر رکشہ والے کا اپنا ہی ریٹ ہوتا ہے کوئی زیادہ تو کوئی بہت ہی زیادہ ۔ اسی طرح تین ریڑھیوں پر ٹماٹر کا ہی نرخ پوچھیں تو تینوں ریڑھی بان مختلف قیمت بتائیں گے۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ ہر جگہ ایک ہی نرخ کیوں نہیں؟

ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر ایسی لاکھوں مثالیں ملتی ہیں جہاں مہنگائی کے باعث روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جسے بھی موقع ملتا ہے وہ دوسرے کی کھال ادھیڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، ملک میں معاشی یا مہنگائی کی جو صورتحال بنی ہوئی ہے اس کے تمام تر معاملات حکومتی کھاتے میں ہی جا رہے ہیں۔ قیمتوں میں تضاد یا بیلنس کے ذمہ دار پرائس کنٹرول جیسے ادارے ہیں۔ وہ اگر اپنے فرائض بخوبی انجام نہیں دے پا رہے تو پھر یہی سوال اٹھے گا کہ کیوں ایک بڑی تعداد میں عوام ہی کے ٹیکسوں کا پیسہ ان جیسے اداروں پر ضائع کیا جا رہا ہے۔

اب کئی جگہ عوام قصور وار بھی نہیں گزشتہ دنوں پشاور کے صدر بازار میں چند فروٹ فروشوں سے سوال کیا گیا کہ بے شک پیسے زیادہ مانگیں لیکن نرخ ایک ہی کیوں نہیں تو جواب ملا کہ کیا کریں؟ قانون نافذ کرنیوالے ایک ادارے سمیت چار ڈیپارٹمنٹس کے اہلکار ہم سے ہفتہ وار بھتہ لیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے کے بعض اہلکار تو روزانہ یا ہر دوسرے، تیسرے روز مفت میں فروٹ بھی لے جاتے ہیں اگر انکار کریں تو فوری ہٹا دیا جاتا ہے ایسے میں ہم کیا کریں؟ جہاں اوپر سے روزانہ کی بنیاد پر زندگی کی تمام تر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں پھر ادارے بھی مانگتے ہیں تو ہو گا کیا؟؟

یہی ہو گا یعنی جس سے بھی بات کریں، جواب یہی ملتا ہے کہ “غربت کا نہیں، غریب کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔” بعض جگہ تو یہ بھی سنتے ہیں کہ یہ پالیسی کہ غریب کو ختم کرو اچھی بات ہے۔ غربت تو ویسے بھی ختم ہونے والی نہیں بہتر ہےکہ غریبوں کا خاتمہ کر دو، زندگی آسان ہو جائیگی۔

وفاقی حکومت کیجانب سے جہاں ملکی سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافے کا تعلق ہے۔ اسی حوالے سے گزشتہ روز مسلم لیگی رہنما مریم نواز سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ اضافہ جتنا ہوا ہے لیکن مہنگائی تو سینکڑوں فیصد بڑھی ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ ملک بھر میں تو سرکاری ملازمین کی تعداد ایک کروڑ سے بھی کم ہے۔ اضافہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن 20 کروڑ سے زائد دیگر ملکی عوام کیا کریں گے۔

بڑھتی مہنگائی میں جس طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتیں روزانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہیں اس پر تو کئی مضامین لکھے جا سکتے ہیں ایک کالم یا آرٹیکل میں تمام تر اشیاء کے تو نام بھی بتانا ممکن نہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ جب بھی پشاور کے تاجروں سے بات ہوتی ہے انکا یہی کہنا ہوتا ہے کہ ملک بھر میں دستیاب تمام ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جو کسی سے کنٹرول نہیں ہو پا رہیں۔ وجوہات جو بھی ہیں لیکن یہ صورتحال خطرناک ضرور ہے۔ وہ الگ بات کہ ایک معاصر روزنامہ میں گزشتہ روز شائع ہونیوالی خبر کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے سستا ملک ہے۔

جہاں اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ پاکستان میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، اب ایسے میں وفاقی وزراء کے یہ بیانات کہ دنیا بھر میں مہنگائی ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں تو یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ عالمی سطح پر مہنگائی کی وجوہات میں سب سے اوپر کورونا وائرس کی وباء کے اثرات بتائے جاتے ہیں۔ اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کے گلوبل اکانومسٹ میتھیو شیروڈ نےکچھ عرصہ قبل ایک خبر رساں ادارے وکس کو بتایا کہ ہر ملک میں مہنگائی کی مخصوص وجوہات اور وہاں کے مخصوص معاملات ہوتے ہیں مگر آج کل ایک عنصر جو سب جگہ کچھ نہ کچھ وجہ بن رہا ہے وہ عالمی سپلائی چین یعنی عالمی سطح پر اشیاء کی آمدورفت اور ترسیل کے نظام میں خرابی ہے جو کورونا وائرس کی وباء کا نتیجہ ہے۔

اسی طرح دنیا بھر میں مہنگائی کی اس لہر نے پاکستان میں حکومتی حلقوں کو یہ کہنے کا موقع دیدیا کہ عالمی منڈی کی صورتحال کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ہو رہی ہے، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ بی بی سی پر کچھ عرصہ قبل شائع ہونیوالے ایک مضمون کے مطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے محقق شاہد مہمند نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے۔ شاہد مہمند کے مطابق عالمی منڈیوں میں مہنگائی کا اثر تو خطے کے دوسرے ممالک پر بھی آیا ہے، جیسے بنگلہ دیش، انڈیا، امریکہ اور یورپ میں بھی مگر زیادہ تر ممالک میں یہ شرح چار یا پانچ فیصد ہے۔ انکے مطابق بیرونی جھٹکے پاکستان میں مہنگائی لاتے ہیں مگر ملک میں مہنگائی کی بنیادی وجوہات یہ نہیں ہیں۔

شاہد مہمند کہتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی کو سمجھنے کیلئے آپ کو صرف بیرونی وجوہات جیسے تیل مہنگا ہو گیا یا کوئی اور بیرونی جھٹکا آ گیا، صرف ان کو نہیں دیکھنا ہوتا، آپ کو مہنگائی کے داخلی عناصر بھی سمجھنے پڑتے ہیں۔
مہنگائی بڑھنے میں ایک اہم عنصر جسے ہمیں دیکھنا ہو گا وہ ہے “منی سپلائی” کا یعنی پیسے کی رسد یا مارکیٹ میں روپے کی موجودگی۔
حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں تین سے چار ٹریلین روپے اپنی معیشت میں متعارف کروائے ہیں۔ پھر آپ نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ملک کی ایگریگیٹ سپلائی یعنی مجموعی رسد وہ اس اضافے پر کیا ردعمل دکھاتی ہے۔

ایگریگیٹ سپلائی یعنی مجموعی رسد سے مراد یہ ہوتی ہے کہ معیشت میں مصنوعات یا سروس کی طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کہا جاتا ہے۔ آپ نے گاڑی لینی ہے یا گندم، جو چیز آپ کو آپ کی معیشت فراہم کرتی ہے ان سب کو مجموعی طور پر ایگریگیٹ سپلائی کہا جاتا ہے۔

شاہد مہمند کہتے ہیں جب حکومت نے معیشت میں پیسے کی رسد بڑھا کر اتنی زیادہ قوتِ خرید میں اضافہ کر دیا مگر پاکستان میں اشیاء کی طلب پورا کرنے کی صلاحیت کو اتنا نہیں بڑھایا جس کی وجہ سے حکومت کا یہ اقدام مہنگائی کو بڑھانے کی وجہ بنتا ہے۔

وفاقی حکومت کے مطابق عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جانے کا اثر پاکستان پر بھی براہ راست پڑ رہا ہے۔
اب جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دیگر مہنگائی کی بات کا تعلق ہے تو سٹی 42 نیوز چینل پر نشر ہونیوالی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق۔”وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روز مرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2021ء کے دوران تسلسل سے مہنگائی کی شرح بڑھتی رہی، دسمبر 2021ء میں مہنگائی کی شرح میں 12.3 فیصد کا اضافہ ہوا اور نومبر 2021ء میں مہنگائی 11.55 فیصد رہی جبکہ دسمبر 2020ء میں افراط زر کی شرح آٹھ فیصد تھی اور سال 2020ء کے چھ ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح 8.63 فیصد رہی۔”

اسی طرح جیو نیوز پر نشر ہونے والی ایک حالیہ خبر کے مطابق تحریک انصاف حکومت کے ساڑھے 3 سال مہنگائی کے ستائے عوام پر بھاری رہے۔ خبر میں ادارہ شمارت کی جاری کردہ رپورٹ کا باقاعدہ ذکر کیا گیا ہے۔
جہاں تک پاکستان میں غربت کی شرح کا تعلق ہے تو “جون2021ء کو انڈیپنڈنٹ اردو میں شائع ہونیوالے ایک مضمون کے مطابق 2018ء میں پاکستان کی آبادی کی 31.3 فیصد تعداد یعنی تقریباً سات کروڑ غربت کی لکیر کے نیچے رہنے پر مجبور تھی۔ 2020ء میں یہ تعداد بڑھ کر 40 فیصد یعنی آٹھ کروڑ 70 لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔

کرونا وبا کی وجہ سے بیروزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہوا اور 2021ء کے اعداد و شمار مزید تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ ان مایوس کن اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں غربت کی شرح 31.4 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 49 فیصد اور بلوچستان میں خوفناک 71 فیصد ہے۔ عالمی بینک کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد غریب آبادی دیہات میں بستی ہے۔ “اسی حوالے سے موجودہ یعنی 2022ء میں کیا صورتحال ہے؟
ہونا تو یہ چاہیئے کہ متعلقہ حکومتی ادارے عوام کو فورا آگاہ کریں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو ہر طرح کے جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کہا کہ کراچی میں جرائم بڑھنے کی وجہ مہنگائی بھی ہے، جب کراچی میں ایسا ہی ہے پھر تو پورے ملک میں جرائم کی ایک وجہ مہنگائی کا بڑھ جانا قرار دینا چاہیئے۔ ظاہر سی بات ہے جب گھر میں کھانے کو نہیں ملتا تو پھر انسان باہر نکل کر کسی کو بھی جس طریقے سے لوٹے یا خود لٹ جائے۔ واقعات و حادثات میں اضافہ تو پھر ہونا ہی ہے نا۔ اسی طرح گھریلو جھگڑے، خودکشیوں میں اضافہ، بچوں کی مشقت میں اضافہ، بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ جیسے عوامل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کہتے آ رہے ہیں کہ سوویت یونین جنگ یا دفاعی صورتحال کے باعث نہیں ٹوٹا، جب ان کی معیشت گری تو نتائج دنیا کے سامنے ہیں ورنہ روس کے پاس تو آج بھی ہر طرح کا اسلحہ اور دفاعی نظام موجود ہے۔

جہاں تک حکومت یا اپوزیشن کا تعلق ہے تو کافی عرصے سے دونوں ایک دوسرے سے دست و گریںاں ہیں بجائے اس کے کہ ملکی معیشت کی بہتری اور مہنگائی کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔ مہنگائی میں کمی لانا، معیشت کو درست کرنا، عوام کو ریلیف دینا یقینا صرف اور صرف حکومتی ذمہ داری ہے اور جہاں تک عوام کو ریلیف دینے کا تعلق ہے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ہر ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد نئی ڈیڈ لائن دے دیتے ہیں، اسی طرح وزراء چینی کے کم استعمال، فلاں آٹے کی جگہ فلاں قسم کے آٹے کا استعمال یا ٹماٹر کی جگہ دہی کے استعمال جیسے فارمولے بتاتے رہتے ہیں۔ عوام کو ہمیشہ یہی نوید سننے کو ملتی ہے کہ جلد خوشحالی آنیوالی ہے لیکن جس رفتار سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اب پتا نہیں آگے ہو گا کیا؟ اور اس ملک کا بنے گا کیا؟ کاش کوئی تو اسکی بھی ذمہ داری لے ۔۔!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے