یو اے ای کی ڈرون حملوں کے بعد سے ہتھیاروں میں بھاری سرمایہ کاری جاری
فروری 24, 2022
القمر
متحدہ عرب امارات ڈرون، روبوٹس اور دیگر خود کار ہتھیاروں کی خریداری کے لیے خوب پیسے خرچ کر رہا ہے، کیونکہ یمنی باغیوں کے خلیجی ملک پر حملوں سمیت خود کار جنگیں بڑھتی جارہی ہیں۔
(یو ایم ای ایکس) اَنمینڈ سسٹمز نمائش کے موقع پر ‘ایج’ (ای ڈی جی ای) کے نارنجی رنگ کے لوگو کے ساتھ بڑے سائز کا سیاہ ڈورن بھی یو اے ای کے اسلحہ کنسورشیم میں رکھا گیا جہاں دیگر ریموٹ کنٹرول مشین گنز اور دیگر اسمارٹ ہتھیار بھی نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔
اس نمائش کا انعقاد اسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب خطے میں خود کار ہتھیاروں کے حملے بڑھتے جار رہے ہیں، جن میں سے ایک حملہ 17 جنوری کو یمن کے باغیوں کی جانب سے کیا جانے والا ڈرون اور میزائل حملہ بھی شامل ہے جس میں ابوظبی میں تیل کمپنی کے تین مزدور ہلاک ہوئے تھے، یہ ڈرون حملہ اس طرح کے واقعات کے شروع ہونے والے سلسلےکا پہلا واقعہ تھا۔
‘ایج’ 25 اماراتی فرمز پر مشتمل ابوظہبی میں قائم ایک دفاعی کنسورشیم ہے جو تین سال قبل تشکیل دیا گیا تھا اور 2020 میں اس کے اسلحے کی فروخت کا تخمینہ 4 ارب 8 کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا، جو تقریباً مکمل طور پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کو فروخت کیا گیا۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس گروپ کو 2020 میں دنیا بھر میں 100 سب سے زیادہ ہتھیار تیار کرنے اور فوجی خدمات فراہم کرنے والی فرمز کی فہرست میں 23 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی زیرقیادت فوجی اتحاد کا حصہ ہے جو 2015 سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑ رہا ہے، اگرچہ یو اے ای نے 2019 میں اپنی زمینی فوج کو واپس بلا لیا تھا لیکن یہ ملک یمن میں تنازع کا اہم کردار ہے۔
‘ایج’ کے سب سے زیادہ منافع بخش معاہدوں میں تقریباً 4 ارب ڈالر مالیت کا فوجی طیاروں کی دیکھ بھال کے معاہدے کے ساتھ 88 کروڑ ڈالر کے عوض گائیڈڈ گولہ بارود فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
گزشتہ روز نمائش میں گاڑی میں نصب ریموٹ کنٹرول رائفل پیش کی گئی جو 360 ڈگری گھوم سکتی ہے اور اس میں تھرمل امیجنگ اور لیزر رینج فائنڈر ہے جو 2 کلومیٹر سے زیادہ دور کے اہداف کے لیے 50 سینٹی میٹر تک درست ہے۔
اس سے 2 روز قبل بھی یو اے ای کی وزارت دفاع نے ملکی اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ 17 کروڑ 82 لاکھ ڈالر سے زیادہ کے 3 معاہدوں پر دستخط کیے تھے، سائن کیے گئے معاہدوں میں متحدہ عرب امارات میں قائم انٹرنیشنل گولڈن گروپ کو ڈرون سسٹم کی فروخت بھی شامل ہے۔
ایک اماراتی کمپنی جو بنیادی طور پر فور وہیل ڈرائیو گاڑیاں اور بکتر بند گاڑیاں تیار کرتی ہے، اس کے مالک احمد المزروعی کا کہنا ہے کہ ابوظبی پر حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کی دفاعی صنعت مزید ترقی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجز کا درپیش ہونا بہت اہم ہے، کیونکہ یہ چیلنجز ہمیں مستقبل میں آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد اگلے 10 برسوں میں ایسے مزید سسٹم اور زیادہ ٹیکنالوجی کا حصول ہے، یہ متحدہ عرب امارات کی بنائی ہوئی پروڈکٹ ہے اور ہم عالمی سطح پر اس صنعت میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
خالد البریکی، جو ‘ایج’ کمپنی کے 5 میں ایک شعبے کے سربراہ ہیں ان کا گزشتہ سال ایئر شو کے دوران کہنا تھا کہ ایج نے غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں امریکی فرم لاک ہیڈ مارٹن اور رےدی آن، اور برازیل کی ایمبرائر شامل ہیں۔
2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام نے بھی نئے مواقع کھولے ہیں۔
یو ایم ای ایکس کا پانچواں ایڈیشن وہ پہلا موقع ہے جس میں اسرائیل کو شامل کیا گیا ہے، جو نمائش میں شریک 26 ممالک میں سے 7 نئے شامل ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے۔
ڈرون اور دیگر خود کار ہتھیاروں کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے عام ہو رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات چین سے 12 جنگی طیارے خریدے گا
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے چین سے ایک درجن ایل-15 طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد اپنے دفاعی پالیسی کو تبدیل کیا ہے اور جدید اسلحہ و جنگی ساز و سامان خرید رہا ہے۔ اسی تناظر میں فوری طور پر چین سے 12 ایل-15 طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک درجن ایل-15 طیاروں کی کھیپ موصول ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات چین سے مزید 36 جنگی جیٹ طیارے بھی خریدنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ چائنا نیشنل ایرو ٹیکنالوجی امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن کے ساتھ ایل-15 طیارے خریدنے اور اس کی تربیت حاصل کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طیاروں کی خرداری تیل سے مالا مال خلیجی ریاست کی ہتھیاروں کے سپلائرز کو متنوع بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ بنیادی طور پر متحدہ عرب امارات کی فضائیہ امریکی ساختہ F-16 اور فرانسیسی ساختہ میراج لڑاکا طیارے استعمال کرتی ہے جب کہ گزشتہ برس ہی فرانس کو رافیل طیاروں کا آرڈر بھی دیا تھا۔