روسی صدر پیوٹن نے آج باقاعدہ یوکرین پر حملےکا اعلان کر دیا ہےاور روسی افواج یوکرین میں داخل ہورہی ہیں جبکہ یوکرین کی ایئرفورس روس کی جانب سے ہونے والے حملوں کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یوکرین میں شہروں کو نہیں بلکہ فوجی تنصیبات اور ایئرپورٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ اقدام روس کے تحفظ کی خاطر اٹھایا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے عالمی رہنماؤں نے روس پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مزید حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔جمعرات کی علی الصبح روسی صدر ولادیمیر پوتن کی یوکرین کے ڈونباس خطے میں ’فوجی آپریشن‘ شروع کرنے کے اعلان کے بعد یوکرین کے صدر نے ملک میں مارشل نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیرِ کنٹرول دو خطوں کو بطور آزاد علاقے تسلیم کرنے کے بعد وہاں روسی دستے بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ رواں ہفتے کے آغاز پر صدر پوتن نے یوکرین کے دو علاقوں لوہانسک اور ڈونیسک کو آزاد ریاستیں تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔مشرقی یوکرین کے ان علاقوں میں داخل ہونے والے روسی دستے ان ایک لاکھ نوے ہزار فوجیوں میں سے ہیں جو گذشتہ چند ماہ سے یوکرین کی سرحد پر جمع ہیں۔ یوکرین کی سرحد پر جمع فوجیں، ٹینکوں، توپ خانوں، ہوائی جہازوں سے لیس ہیں اور انھیں بحریہ کی مدد بھی حاصل ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک سیکورٹی یقین دہانی کرائے اور یوکرین کو نیٹو کا حصہ بننے سے باز رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں اسلیے ان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ روس کسی قیمت پر بھی کارپتھی پہاڑوں کے مشرق میں قابل ذکر فوجی طاقت برداشت نہیں کر سکتا۔ جبکہ مغربی ممالک یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں نیٹو کے مضبوط اڈے قائم کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے بیلا روس اور یوکرائن میں بھی یہ کوشش کی۔ بیلا روس کے آمر نے روس کی مکمل حمایت کی جبکہ یوکرائن میں روس کو اس ضمن میں ناکامی ہوئی اور یورپ کے تائید یافتہ لیڈر بر سر اقتدار آ گئے اور انہوں نے نیٹو میں شمولیت کی خواہش کا اعلان بھی کر دیا۔
1990 میں جرمنی کے اتحاد کے موقع پر یہ طے ہوا تھا کہ برلن اور مشرقی جرمنی میں جوہری ہتھیار اور غیر ملکی فوجی تعینات نہیں ہوں گے۔ اس وقت کی سرکاری دستاویزات میں یہ بات صاف لکھی موجود ہے کہ مشرقی یورپی ممالک کو نیٹو میں شمولیت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ گو بطور معاہدہ نہیں بلکہ بطور یاداشت ایسا لکھا ہے، تاہم یہ بات بہرحال طے ہوئی تھی۔ اس وقت سے روس کا مطالبہ ہے کہ نیٹو مشرق کی جانب پیش قدمی نہ کرے۔ روس نے اس کے مطابق مشرقی جرمنی اور پولینڈ وغیرہ سے اپنی افواج نکال لیں۔ لیکن 1992 میں وارسا پیکٹ ختم ہونے کے بعد کہا جانے لگا اب وہ معاہدے موثر نہیں کیونکہ دوسرا فریق اب موجود ہی نہیں۔
1997 میں نیا معاہدہ کیا گیا کہ نیٹو مشرق میں مزید ”قابل ذکر“ افواج مستقل طور پر تعینات نہ کرے گی۔ یہ معاہدہ امریکہ اور جرمنی کی 1990 کی یقین دہانیوں کے مطابق تھا کہ نیٹو کا مشرق میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں۔ چنانچہ روس نے 1999 میں نیٹو کی مشرق میں توسیع اس شرط پر قبول کر لی۔ 1999 میں ہی مگر استنبول میں نیٹو نے یہ اعلان کیا کہ ہر ملک آزاد ہے کہ غیر جانبدار رہے یا کسی بھی معاہدہ میں شامل ہو۔ روس نے 2004 میں اس معاہدہ کی بھی توثیق کر دی۔مگر امریکہ نے یہ کہہ کر توثیق کرنے سے انکار کر دیا کہ پہلے روس جارجیہ اور مولدوویا سے نکلے۔ آخر کار روس نے جارجیا سے تمام فوجی اور مولدووا سے ہتھیار نکال لئے مگر امریکہ نے پھر بھی معاہدہ کی توثیق نہ کی۔ ایک طرف تو معاہدہ نافذ نہیں کیا گیا دوسری طرف 2004 میں بالٹک ممالک کو نیٹو میں شامل کر لیا گیا اور وہاں نیٹو افواج بھی تعینات کر دی گئیں۔
اس کے بعد سوال پیدا ہوا کہ 2007 میں جو مزید ”قابل ذکر مستقل جنگجو فوجی“ تعینات نہ کرنے کا معاہدہ ہوا تھا، جس کی توثیق امریکہ نے نہیں کی، تو اس اس سے کیا مراد ہے؟ امریکہ نے روس کے ساتھ مل کر یہ بات طے کرنے سے انکار کر دیا۔ اور ساتھ ہی یک طرفہ طور پر اپنے نیٹو حلیفوں سے بھی بات کیے بغیر ہی بحر اسود میں بحری جنگی جہاز متعین کر دیے۔ علاوہ ازیں امریکہ نے رومانیہ میں فوجی متعین کر کے کہا کہ وہ ”قابل ذکر اور مستقل“ نہیں۔ اسی طرح امریکہ نے نیٹو سے ماوراء ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ پولینڈ اور چیک رپبلک میں ”ایرانی میزائل خطرہ“ کے پیش نظر میزائل شکن نظام نصب کیا جائے گا۔ جو کہ اب نصب ہو چکا ہے اور درحقیقت روس کے خلاف ہی استعمال ہو گا۔
غالب امکان ہے کہ روس یوکرائن میں بعض اڈوں پر مستقلاً اپنی فوجیں تعینات کرے گا۔ جیسا کہ جارجیا میں کر چکا ہے۔ اس کے لئے یوکرائن کے دونوں مشرقی صوبے، جہاں روسی قوم اکثریت میں ہے، مناسب ہیں۔ وہاں جارجیا کی طرح ”تحریک آزادی“ کو تسلیم کر کے اپنی فوجیں تعینات کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں روس جارجیا کے بعد یوکرائن کو مثال بنا کر مشرقی یورپی ممالک پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ وہ نیٹو پر بھروسا نہیں کر سکتے۔ اس لئے ان کا مفاد اس میں ہے کہ روسی تحفظات کا خیال رکھیں۔اس مسئلہ کا پر امن حل اس طرز کی مفاہمت میں ہے کہ یوکرائن مغرب کے ساتھ منسلک تو رہے مگر اس بات کا ہمیشہ خیال رکھے کہ روسی مفادات پر کوئی ضرب نہ پڑے۔ نہ تو اپنے ہاں مغربی افواج کو جگہ دے، نہ روس کی تجارت کو متاثر کرے، نہ ہی یوکرائن کی روسی آبادی پر کوئی سختی کرے۔
جمعرات، 24 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post روس نے یوکرین پر کیوں حملہ کیا: شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
