صدر پوتن نے توقع کے مطابق یوکیرین بحران کا سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے بجائے دونباس صوبے میں واقع لوہانسک اور دونستک نام نہاد جمہورتوں کے خود مختاری کے مطالبات کو قبول کرتے ہوئے اور بعد ازاں خطے کو روسی امن فورسسز کو روانہ کرتے ہوئے اس معاملے کو مزید طول دینے کو ترجیح دی۔ بعد ازاں یوکیرین پر حملے شروع کر دیے۔ اس طرح سال 2014 سے ابتک مسئلے کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات کی زمین کو تشکیل دینے والا منسک پروٹوکول کالعدم بن گیا۔ اس پر بھی اکتفا نہ کرنے والے پوتن نے نئی شرائط وضع کیں ، جو کہ کریمیا کے الحاق کو تسلیم کرنے، یوکیرین کو نیٹو ی رکنیت دینے کی سوچ سے باز آنے، یوکیرین کی جانب سے اس پیش کش کو مسترد کرنے اور یوکیرین کے غیر مسلح بنانے پر مبنی تھیں۔
سیتا سیکیورٹی تحقیقاتی امور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا اس موضوع پر تجزیہ ۔۔۔
بحران کی تازہ پیش رفت کے ساتھ چاہے مرکزی ہدف دونباس علاقے کے طور پر سامنے آتا ہے تو بھی اس بحران کا حل تلاش کرنے والی کڑی دونباس نہیں ہو گی۔ کم ازکم پوتن اسوقت بحران کو طول دینے کی برتری اپنے ہاتھ میں ہونے کی سوچ رکھتے ہیں اور اپنے ہر قدم کو کہیں زیادہ بڑے جیو پولیٹکل اہداف تک رسائی کے لیے انتہائی احتیاط سے اٹھانے کی کوشش میں ہیں، جن میں یوکیرین پر قبضہ کرنا بھی شامل ہے۔
اگر پوتن کے یوکیرین کو روسی جیو پولیٹکل تخیل کے اصل عنصر اور مغربی ممالک اور اپنے درمیان حساب چکانے کے ایک میدان کے طور پر مد ِ نظر رکھا جائے تو اس بات کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ یہ دونباس تک محدود بحران کے حل کو قبول نہیں کرے گا۔ دوسرے الفاظ میں دونباس روس کے لیے واحدانہ طور پر سلامتی کے خدشات اور مغربی ممالک کے سامنے جیوپولیٹکل خدشات کو دور کرنے والا ایک حل چارہ نہیں۔
اس نکتے پر ذہنوں میں آنے والا پہلا سوال یہ ہے کہ پوتن دونباس کے باقی ماندہ علاقے کے لیے کس طرح کی کاروائیاں کریں گے؟ روس کے سال 1999 میں چیچنیا، 2008 میں جارجیا، 2014 میں کریمیا اور ’’قریبی علاقے‘‘ سے ہٹ کر دیگر علاقوں میں فوجی مداخلت کو بالائے طاق رکھنے سے یہ کہنا ممکن ہے کہ اس کا پہلا حربہ یوکیرین کو دونباس کے باقی ماندہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہو سکتا ہے۔ اس تصور کاعملی حیثیت اختیار کرنا؛ یوکیرین کے 2014 سے مختلف دفاعی ترجیح کو نہ اپناتے ہوئے اسوقت زیر کنٹرول علاقوں سے فراغت کرنے ، مغربی ممالک کی جانب سےمرحلہ وار عائد کردہ پابندیوں کا غیر مؤثر ثابت ہونےاور روسی فوج کی طاقت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کیف پر صحیح معنوں میں جنگ مسلط کرنے کے ساتھ ہی ممکن بن سکتا ہے۔
دوسرا احتمال فرنٹ لائن سے حملے شروع کرتے ہوئے یہاں پر موجود روسی اقلیتیوں کا تحفظ کرنے کی آڑ میں میدان میں عملی طور پر جنگ کرتے ہوئے یوکیرین کو علیحدگی پسند جمہورتوں کی نقشوں میں وضع کردہ سرحدوں سے مکمل طور پر انخلا کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ کیونکہ پوتن کا مذکورہ دونوں جمہورتوں کے خود مختاری کے مطالبات کو پورا کرنے والا تحریری متن پورے دونباس صوبے پر محیط ہے۔ یعنی یوکیرینی فوج اپنی سر زمین پر روس کی تسلیم کردہ دستاویز کی رو سے ’’قابض‘‘ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ صورتحال یوکرین کو اسوقت 70 فیصد علاقے کا کنٹرول ہاتھ میں ہونے والے دونباس علاقے کو ترک کرنے اور اس سے بھی اہم بحیرہ ازوف میں واقع اور اسوقت یوکیرین کے زیر ِ کنٹرول ماریو پول بندر گاہ کےبھی دونستک کی پراکسی ریاستوں کے ہاتھ میں جانے کا مفہوم پیدا کرے گی۔
اگر یہ منظر عامہ عملی ماہیت اختیار کرتا ہے تو روس کی بحیرہ ازوف میں سٹریٹجیک بالا دستی مظبوط بنے گی اور یوکیرین کا اہم ترین اقتصاد ی رابطہ روس کے کنٹرول میں چلا جائیگا۔اس طرح روس کریمیا کے ساتھ زمینی رابطہ قائم کر سکے گا۔
سن 2014 میں علیحدگی پسندوں کے حملوں کے برخلاف اس سٹریٹیجک علاقے کا تحفظ کرنے میں کامیابی حاصل کرنے والی یوکیرینی فوج روس کے مزید حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس شہر کو روسیوں کے حوالے کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال بحران کے سٹریٹیجک اورعلامتی اعتبار سے یوکیرین کے خلاف نتیجہ خیز بننے کا مفہوم رکھتی ہے۔ کیونکہ ماریو پول دونباس علاقے میں فوجی آپریشن کے مرکزی کمان مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بیک وقت ایک اقتصادی نقصان ہی نہیں بلکہ لاجسٹک طور پر دونباس علاقے کا دفاع کرنے میں معاونت فراہم کرنے والے راستوں کو بھی کمزور بنا دے گا۔ لہذا روس کا اب کے بعد کا ہدف دونباس کے باقی ماندہ علاقے پر قبضہ جمانا ہے تو یہ اس کے ہاتھ میں موجود متبادل میدان میں جنگ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اس طرح کی ایک جنگ روس کے لیے آسان نہیں ہو گی۔ کیونکہ صدر پوتن اسوقت فائدہ ۔ اخراجات تجزیے کو ہمیشہ سے کہیں بڑھ کر کر رہے ہیں۔ اس بنا پر پوتن ابتدائی مرحلے میں جبری طریقوں سے دونباس کی پراکسی ریاستوں کی وساطت سے علاقے پر قبضہ جمانے کی آزمائش کرے گا۔
