وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ یوکرین سے انخلاء کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ایک نجی چینل پر یوکرین میں ہونے والی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے، چاووش اولو نے کہا کہ یوکرین میں ترک باشندوں کی صورت حال کا قریب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ترک باشندوں سے محفوظ مقامات پر رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم شروع سے ہی اپنے شہریوں کے انخلا پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری تیاریاں مکمل ہیں تاہم اس وقت فضائی حدود بند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خشکی کے راستے انخلا ء کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالات کے بہتر ہونے پر ہم اپنے شہریوں کو زمینی راستے سے مالدووا، رومانیہ اور پولینڈ لے جائیں گے۔ اس وقت سمندری راستے خاص طور پر اوڈیسا کے علاقے میں کشیدگی جاری ہے اور بحری ٹریفک بھی اس وقت بند ہے۔ اگر بحری ٹریفک کھل جاتی ہے تو ہم اپنی فیری بوٹس کمپنیوں کے ساتھ مل کر بحری راستے سے انخلا کے لیے کام کریں گے۔
چاوش اولو نے کہا کہ رومانیہ، پولینڈ اور مالدووا سے خزکی کے راستے انخلاء کی صورت میں ویزا، پی سی آر ٹیسٹ اور ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وزارت کے کال سینٹر اور واٹس ایپ لائنز اور سفارتی نمائند ے بڑے فعال طریقے سے اپنیے فرئض سرانجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سب باشندووں کا محفوظ طریقے سے انخلا ء کرنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ترکی ایک ایسا ملک ہے جو یوکرینی باشندوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترکی ہمیشہ ہی پوری دنیا کے مظلوم انسانوں کی امداد کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، "ہم یوکرینی باشندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے یوکرین میں ترک باشندوں اور کریمیائی تاتار باشندوں کے موجود ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سب سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور اگر وہ چاہیں تو ان سب کو ترکی روانہ کیا جاسکتا ہے۔
