انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی صدر کے دورئہ ترکی کے اعلان نے یونان کو سخت پریشان کردیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق گزشتہ برس ترکی نے بحیرئہ روم میں تیل و گیس کے لیے کھدائیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا،جس کے بعد یونان اور یورپی یونین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس دوران یونان اور اسرائیل کی بحریہ نے بحیرئہ روم کی حفاظت کے لیے حوالے سے اتحاد بنایا تھا اور دونوں ممالک کی بحریہ کے اعلیٰ عہدے داروں کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوئیںتھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان قربتوں کے نتیجے میں تل ابیب اور ایتھنز کے درمیان اتحاد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی صدر یونان پہنچے تھے تاکہ ترکی کے ساتھ آیندہ تعلقات کے حوالے سے یونان کے خدشات دور کر سکیں۔ واضح رہے کہ تُرک صدر اردوان اسرائیل کی فلسطینیوں کے حوالے سے پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں ۔
