جرمنی نے یوکرین کو 500 ٹینک شکن راکٹ لانچروں کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے۔
حکومتی ترجمان اسٹیفن ہیبیس ٹریٹ کے مطابق، یوکرین کو جنگی سامان کی فراہمی جرمنی کا اس دیرینہ پالیسی سے واپسی ہے جس کے تحت اس نے متنازع علاقوں میں ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو عہدیداروں کے مطابق یورپی یونین اور نیٹو اتحادیوں کے دباؤ کے درمیان برلن کی فوجی پالیسی میں اچانک تبدیلی رونما ہوئی ہے اور اس نے یوکرین کی مدد کے لیے 500 ٹینک شکن راکٹ لانچر فراہم کرنے کا فیصلہ کیدوسری جانب روس کے ہمسایہ ملک چیچنیا نے روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے یوکرین میں فوج تعینات کردی ہے۔
چیچن جمہوریہ کے سربراہ رمضان قدیروف کا کہنا ہے کہ چیچن فوجیوں کو ابھی تک کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے روسی افواج آسانی سے یوکرین کے بڑے شہروں پر قبضہ کر سکتی ہیں، بشمول دارالحکومت کیف لیکن روسی فوج کی پوری کوشش ہے جانی نقصان کم سے کم ہو۔
واضح رہے کہ قدیروف خود کو پوٹن کا فوجی قرار دیتے ہیں۔
قادروف اس سے قبل شام اور جارجیا میں بھی روس کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کے لیے اپنی افواج تعینات کر چکے ہیں۔ 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد، روس نے مسلم علاقے چیچنیا میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ دو خونریز جنگیں لڑی تھیں، لیکن اس کے بعد روس نے اس علاقے کی تعمیر نو کے لیے خطیر رقم خرچ کی اور قدیروف کو وسیع پیمانے پر خطے کے انتظامات چلانے کیلئے خودمختاری دی۔
