
اسلام آباد (آن لائن+نمائندہ جسارت) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فحاشی سے خاندانی نظام تباہ ہوجاتا ہے، پردہ محافظ ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں رحمت اللعالمین ؐ اتھارٹی کی فعالیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ اقتدار میں آکر اندازہ ہوا کہ حکومت کئی چیزیں ٹھیک نہیں کرسکتی، اخلاقی تربیت کا آغاز بنیادی سطح سے کرنا ہوگا،حق کا راستہ آسان نہیں مشکلات سے بھرپور ہے،میں اسلامی اسکالر نہیں دین کی طرف اپنے تجربے سے آیا ہوں کیونکہ میں نے دونوں طرح کے کلچر دیکھے، مغربی معاشرے کو قریب سے دیکھ کر تجزیہ کیا، سیرت النبیؐ پڑھی تو میرے اندر تبدیلی آئی،قانون کی حکمرانی قائم کرنا جہاد ہے کیوں کہ آپ کا مقابلہ مافیا سے ہے،پی ٹی آئی حکومت نے کرپشن کو ناقابل قبول بنا دیا ہے،نوازشریف جھوٹ بول کر بھاگا، یہاں صحافی کہتے ہیں اسے تقریر کرنے دواور الیکشن کی اجازت ہونی چاہیے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ کا معاشرہ اسی لیے ہم سے آگے ہے کہ وہاں برائی کو دبایا جاتا ہے اور اچھائی کو فروغ دیا جاتا ہے، ان کی اخلاقیات ہم سے بہت آگے ہیں، وہاں عوام کا پیسہ چوری کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، وہاں کوئی مقصود چپڑاسی نہیں ہوتا،یہاں نیب جانے والوں پر پھول پھینکے جاتے ہیں، ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر جانے والے کے لیے ٹی وی پر تقریر کے حق میں کچھ صحافیوں کی جانب سے آوزایں اٹھائی جاتی ہیں، کچھ وکلا کہتے ہیں کہ اس پر سے پابندی ختم کردو تاکہ وہ پھر الیکشن لڑ سکے۔عمران خان کے بقول اسی لیے ہمیں اپنے بچوں کو سیرت النبیؐ پڑھانی چاہیے تاکہ برائی کرنے والوں کو قوم خود تنہا کردے،آج بڑا خوش ہوں کہ 3 مہینوں بعد اس اتھارٹی کے قیام کا تصور واضح ہوا ہے، اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر انیس کا خاص طور پر شکر گزار ہوں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے رحمت اللعالمین ؐاتھارٹی کا مکمل روڈ میپ پیش کیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ اس اتھارٹی کے قیام کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ ہماری نوجوان نسل اور بچوں کو سمجھ ہی نہیں ہے کہ یہ ملک کیوں بنا تھا، ہمارے نبی ؐکا پیغام کیا تھا، اور ان کی پیروی کا حکم قرآن میں کیوں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے سے بھی پہلے مجھے اس بات کا احساس تھا کہ ہمیں اسکول میں یہ چیزیں نہیں پڑھائی جاتیں، مجھے کبھی بھی اسکول میں دینیات اور اسلامیات کی کلاس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میں کیوں رسول ؐ کے راستے پر چلوں، ہمیں رسولؐسے محبت اور ریاست مدینہ کا تصور نہیں سمجھایا گیا،جب میں اسکول میں تھا تو پاکستان کونئی نئی آزادی ملی تھی، تب ہمیں اسکول میں پڑھایا جاتا تھا کہ برطانیہ اور مغربی جمہوریت کے راستے پر چلو تو کامیابی ملے گی۔عمران خان نے کہا کہ مدینے کی ریاست کے 2 اصول تھے، عدل و انصاف اور فلاحی ریاست، وہاں لوگوں کی شخصی تربیت کی گئی اور پھر ان ہی لوگوں نے دنیا کی امامت کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک صرف کرپشن کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں،ساری دنیا کے غریب ممالک کا جائزہ لے لیں وہاں آپ کو کرپشن نظر آئے گی، سوئٹزرلینڈ جیسا ملک بغیر وسائل کے امیر ترین ملک اسی لیے ہے کیونکہ وہاں کرپشن نہیں ہے، نیوزی لینڈ میں کسی پر کرپشن کا ذرا سا دھبہ لگ جائے تو وہ عوام کا سامنا نہیں کرپاتاجب کہ ہمارے ملک میں برائی اور کرپشن کو عام بنادیا گیا ہے، اچھے برے کی تمیز ختم کردی گئی ہے،3 سال پہلے جب میں نے حکومت سنبھالی تو آئی جیز کو بلا کر کرائم چارٹ دیکھا، مجھے اسلام آباد اور پنجاب کے آئی جیز نے بتایا کہ جنسی جرائم کی شرح سب سے اوپر جارہی ہے،قصور واقعہ ہوا تو میں نے باقاعدہ ایک آئی جی کو چْن کر وہاں بھیجا، جس نے واپس آکر مجھے رپورٹ دی کہ جب تک اساتذہ اور علما کو ساتھ ملا کر اس کے خلاف آگہی مہم نہ چلائی جائے تب تک جنسی جرائم کا خاتمہ نہیں ہوسکتا کیونکہ کئی لوگ جنسی جرائم رپورٹ ہی نہیں کرتے۔عمران خان کے مطابق ریپ اور چائلڈ پورنوگرافی کے کیسز سب سے زیادہ ہیں، لوگ شرم کے مارے ایف آئی آر درج نہیں کراتے اس لیے ایک فیصد جنسی جرائم بھی رپورٹ نہیں ہوتے، اسی لیے میں نے سوچا کہ معاشرے کو خود اس برائی کا مقابلہ کرنا ہوگا لیکن معاشرہ تب مقابلہ کرے گا جب لوگوں میں بنیادی اخلاقیات سے آگہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بتانا ہوگا کہ اسلام میں پردے کا حکم کیوں دیا گیا ہے، پردے سے مراد صرف لباس نہیں بلکہ آنکھوں کا بھی پردہ ہے، برطانیہ میں طلاق کی شرح اسی لیے بڑھ گئی کیونکہ وہاں اخلاقی قدریں تبدیل ہونا شروع ہوگئیں اور فحاشی بڑھتی گئی،پردے کا تصور خاندانی نظام کو تحفظ دینا ہے، ہم صرف پردے کرنے کا حکم بتاتے ہیں لیکن اس کے پیچھے چھپی حکمت نہیں بتاتے، اس کے پیچھے ایک بڑا فلسفہ ہے، جیسے جیسے فحاشی بڑھے گی سب سے پہلے خاندانی نظام متاثر ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ آج کل بچے جو کارٹونز اور پروگرام دیکھ رہے ہیں اس میں ماں باپ اور استاد کی عزت نہیں دکھائی جاتی، ہمارے دین میں ماں باپ کی عزت کے پیچھے بھی بڑا فلسفہ ہے، سب سے بے لوث محبت ماں باپ کی اپنی اولاد سے ہوتی ہے، وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اولاد ان کی غلطیاں دہرائے۔انہوں نے کہا کہ الحمداللہ ہمارا خاندانی نظام اب بھی مغرب سے بہتر ہے، اسی لیے ہم نے یہ اتھارٹی بنائی ہے کہ لوگوں کو اور نوجوان نسل کو بتائیں کہ ان احکامات کے پیچھے فلسفہ کیا ہے۔عمران خان نے بتایا کہ اس اتھارٹی کے قیام کا مقصد علمااور اسکالرز کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہے، یہاں سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ سب کی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد ہے،لیڈر شپ شخصی تربیت کا اہم جْز ہے، برے لیڈر کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان تفریق کرتا ہے، ہم انسانوں کے درمیان تفریق کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ نبی ؐتمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے، میثاق مدینہ کے ذریعے انہوں نے سب کو ساتھ ملایا۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صحت کارڈ، احساس پروگرام اور پناہ گاہوں جیسے غیرم معمولی پروگرامز متعارف کرائے جن کے لیے کبھی کسی حکومت نے اتنا زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے کہا کہ افغانستان کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے کے لیے خطے کے سارے لوگ مل کر مہم چلائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے مہمان صدر کا استقبال کیا۔ ازبک صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی آیا ہے جس میں وزیر خارجہ، کابینہ کے دیگر ارکان، اعلیٰ سرکاری افسران، کاروباری اور میڈیا ارکان شامل ہیں۔ 2016ء میں صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد ازبک صدر مرزایویف کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ ازبک صدر ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 30 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ بعدازاں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے، سیکورٹی،ترجیحی تجارتی معاہدے، موسمیاتی تبدیلی سمیت 8 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔عمران خان نے کہا کہ صدر شوکت مرزایوف کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں، اس سے قبل جس طرح آپ نے تاشقند میں ہمارا استقبال کیا تھا پھربخارا اور سمرقندر کے دورے کا انتظام کیا تھا، اس پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، آپ ہمارے ساتھ مل کر پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ازبکستان کے ساتھ ہمارے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو پھر جوڑیں اور یہ تعلقات صرف تجارتی نہ ہوں بلکہ ہمارے ثقافتی تعلقات، تاریخ سب کو سامنے رکھتے ہوئے تعلقات آگے بڑھائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ابھی آپ نے مجھے جو کتاب دی ہے، اس میں آپ نے خود دلچسپی لے کہ ازبکستان کی زبان اور اردو میں کتنے الفاظ ملتے جلتے ہیں اور ان کی تعداد 3 ہزار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلا مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر، جو ازبکستان سے تھے، اس پر مل کر ہم ایک مشترکہ فلم بھی بنا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہمارا یہ فیصلہ ہوا ہے کہ افغانستان کے ذریعے پاکستان اور ازبکستان کو آپس میں جوڑنے کا منصوبہ ہے، ابھی ٹرک جانے شروع ہوئے ہیں اور ہوائی جہاز جانے شروع ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس سے سیاحت بڑھے اور تجارت میں بھی اضافہ ہوگا اور اصل فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان سے افغانستان کے ذریعے ازبکستان تک ریل جائے گی، جو سب سے بڑا منصوبہ ہے،یہ منصوبہ پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک سے جوڑے گا اور پھر گوادر سے جوڑ دے گا۔ازبک صدر شوکت مرزایوف نے کہا کہ اس دورے کے لیے بڑے عرصے سے منصوبہ بندی ہو رہی تھی لیکن عالمی وبا کی وجہ سے مزید وقت لگا لیکن اس دوران ہم نے دورے کے حوالے سے تمام ضروری چیزوں کی تیاری پر کام کیا،ہم پاکستان کے ساتھ نہ صرف مضبوط اسٹریٹجک تعلقات بڑھا رہے ہیں بلکہ ہم وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بھی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔شوکت مرزایوف نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے دوران کئی معاملات پر سیر حاصل گفتگو کی اور منصوبوں کی صورت حال اور مستقبل کے حوالے سے بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران ازبکستان اور آپ کے نیا پاکستان کے مسائل میں یکسانیت سامنے آئی اور اس پر ہماری حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان معاشی اور تجارتی تعلقات مؤثر اور تیزی سے بڑھ رہے ہیں لیکن اس وقت بھی کئی شعبے ہیں جہاں ہم مزید پیش رفت کرسکتے ہیں اور صلاحیت ہے۔ازبک صدر نے کہا کہ آج جن تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں، وہ ہمارے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم قدم ہے۔
