English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پشاور امام بارگاہ میں دھماکا، 56 نمازی شہید

القمر

قصہ خوانی بازار میں واقع امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے میں 56 افراد شہید اور 192 افراد زخمی ہوگئے۔

پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کوچہ رسالدار میں واقع امام بارگاہ میں دھماکے اور اس میں 56 نمازی شہید اور 192 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قبل نامعلوم افراد کی جانب سے علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور اس کے بعد امام بارگاہ کے اندر دھماکا ہوگیا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ریسکیو، پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

دھماکا ایک تنگ گلی میں واقع امام بارگاہ میں ہوا ہے، دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا جس میں اب تک 56 افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، شہر میں ریسکیو کی بہترین سروس ہے لیکن گلی تنگ ہونے کی وجہ سے ریسکیو رضاکاروں کو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، دھماکے والی گلی کے باہر 30 سے زائد ایمبولینسز کھڑی ہیں لیکن گلی میں ایک وقت میں صرف ایک ایمبولینس جاسکتی ہے، جو صرف ایک زخمی کو لے کر آتی ہے، اور ابھی تک 250 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جاسکا ہے، اور زخمیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

6 کلو دھماکا خیز مواد استعمال ہوا، آئی جی خیبر پختونخوا

انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا معظم جا انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے وقت پولیس موقع پر موجود تھی اور عبادت گاہ کے باہر 2 اہلکار سیکورٹی تعینات تھے

انہوں نے کہا کہ حملے میں ایک کانسٹیبل موقع پر شہید ہوا جبکہ دوسرے پولیس اہلکار کی حالت تشویشناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے پستول سے فائرنگ اور پھر خودکش حملہ کیا گیا، دہشت گرد کالے کپڑوں میں ملبوس تھا جبکہ دھماکے میں 5 سے 6 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔

آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ دھماکے کے حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک دہشت گرد کو دیکھا گیا ہے۔

حملے میں 2 اہلکار شہید ہوئے، ایس ایس پی آپریشنز

ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید خان نے بھی دھماکا خودکش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جس کے بعد پولیس کا سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے، جبکہ علاقے کا بھی محاصرہ کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات جاری ہیں جبکہ محکمہ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی ٹیم بھی جائے وقوع پر موجود ہے جبکہ ٹھوس شواہد ملنے پر میڈیا سے شیئر کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ ایک خوکش حملہ آور نے کیا جس میں 2 پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے، جبکہ حملے کے حوالے سے کوئی تھریٹ الرٹ موصول نہیں ہوا تھا۔

ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ہر مسجد کی طرح اس مسجد میں بھی پولیس تعینات تھی اور پولنگ ڈیوٹی کی وجہ سے ہم نے نفریوں کو الرٹ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلا پولیس اہلکار خودکش حملہ آور کو مسجد میں داخلے سے روکنے کی کوشش کے دوران شہید ہوا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا تھا، جو دوران علاج دم توڑ گیا۔

واقعے کی رپورٹ طلب

وزیر اعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی پشاور میں دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بم دھماکے سے جانوں کے ضیاع پر دکھ اور شہید ہونے والے نمازیوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اظہار مذمت

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی کوچہ رسالدار، پشاور میں مسجد میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود نمازیوں پر یہ اندوہناک حملہ کرنے والے نہ مسلمان ہو سکتے ہیں نہ ہی انسان۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی سنگین ہوتی صورتحال لمحہ فکریہ ہے، طویل عرصے سے بار بار توجہ دلا رہا ہوں کہ سر اٹھاتی دہشت گردی پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے، دہشت گردی کی واپسی ملک و قوم کے لیے نیک فال نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور میں دہشت گردی پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم نمازیوں کو نشانہ بنا کر انسانیت پر حملہ کیا۔

انہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے جبکہ زخمیوں کو علاج و معالجے کی بہتر سہولیات مہیا کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی پارٹی چیئرمین کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا کہ ‘نمازیوں پر حملہ تمام انسانیت پر حملہ ہے۔’

انہوں نے خطے میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے میں ناکامی پر حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پشاور دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کی مغفرت اور زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے اور اتنی محنت سے حاصل کیا گیا امن اس نااہل حکومت کے ہاتھوں پھر سے تباہ ہونے کی طرف جارہا ہے۔

صوبائی وزیر کامران بنگش نے بھی لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ راستے میں ہیں اور ہسپتال جارہے ہیں۔

ایکسپریس نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے