اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے میں اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی ظہور پر ملکی راز فروخت کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
خصوصی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ملزم ظہور احمد اپنے وکیل ایڈووکیٹ عمران فیروز ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا جبکہ عدالت کی جانب سے ملزم کو ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائے گئے چالان کی نقول بھی فراہم کر دی گئی۔
عدالت نے مقدمہ میں نامزد ملزم ظہور احمد پر 9 مارچ کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ملزم کو آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 13 دسمبر 2021 کو اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی ظہور احمد پر سفارتکار کو ملکی راز فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا ۔
ملزم کےخلاف مقدمہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، ملزم کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد 23 دسمبر 2021 کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا گیا ۔
ملزم کی 25 جنوری 2022 کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر بھی یہ سوال اٹھائے گئے تھے وہ غیر ملکی سفارتکار کون تھے اور ان کا تعلق کس ملک سے تھا؟ جن کو اے ایس آئی ظہور نے ملکی راز بیچے۔ اگر اس گاڑی کا نمبر موجود ہے تو کیا اس سفارتخانے سے کوئی رابطہ کیا گیا؟
انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری نے الزام عائد کیا تھا کہ اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی ظہور کو صرف اس لئے مقدمے میں پھنسایا گیا کیونکہ انہوں نے ایک مساج پارلر پر چھاپے کے دوران وہاں ایک اہم ادارے کے افسر کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔
Reminder: ASI Zahoor is in FIA custody on the basis of a false frivolous FIR registered under Official Secrets Act. Why? Because of a raid on a massage parlour/brothel in E11 where an army major was caught with his pants down. ASI is being taught a lesson for doing his job.
— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) December 16, 2021
ایمان مزاری نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ پولیس چھاپے میں پکڑا گیا اور اس ساری کاروائی کا مقصد پولیس کو سبق سکھانا تھا۔ قوم کو ان سوالات کے جواب چاہیں کہ ایک معمولی اے ایس آئی کو قومی راز کی رسائی کیسے حاصل ہوئی؟ اگر اس کے پاس ایسے اہم قومی راز تھے تو کیا وہ اتنا بیوقوف تھا کہ انہیں صرف پچاس ہزار روپے کے عوض بیچتا؟
پولیس چھاپے میں پکڑا گیا اور اس ساری کاروائی کا مقصد پولیس کو سبق سکھانا تھا.
— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) December 15, 2021
خیال رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ شریف میں تعینات اے ایس آئی ظہور کے معاملے کے پچھے ایک مقدمے کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر ثانیہ حمید کے ہمراہ پولیس نے عوامی شکایت پر سیکٹر ای الیون 3 میں مختلف مساج سینٹرز کا معائنہ کیا جہاں سن شائن نامی مساج سینٹر اور ایگزیکٹو مساج سینٹر پر چھاپہ مار کر12 مردوں اور 12 خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ایک حاضر سروس آرمی افسر کو نیم برہنہ حالت میں مساج سنٹر سے پکڑنے پر اسلام آباد پولیس کا اے سی آئی ظہور پہلے لاپتہ ہوا، پھر پتہ چلا ایف آئی اے نے اٹھایا اور الزام لگایاکہ غیر ملکیوں کوسرکاری دستاویزات بھیج دئیے، اس ملک کاکیاہوگا پتہ نہیں،مگر ہم سب پرجرم میں شریک ہونگے@ImaanZHazir pic.twitter.com/IYCNJ6enLY
— Zeshan Syed (@ZeshanSyed08) December 16, 2021
اس ایف آئی آر میں گرفتار ایک شخص کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی اہم ادارے کا اہلکار ہے۔ یہی چھاپہ اے ایس آئی ظہور کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے کی وجہ بنیاد بنا۔
