تحریر : محمد امنان
دہشگردی کا انسانیت سے سخت نفرت کا رشتہ باوا آدم کے دور سے چلا آ رہا ہے بنی نوع انسان کے زمین پر قدم رکھنے سے آج تک دہشتگردی اور شدت پسندی مختلف اشکال و انداز میں ہمیشہ سے انسانیت کو کچلتی آئی ہے مذہبی اور ملکی تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں دہشتگردوں کی کارروائیوں میں آج تک ہزاروں افراد داعی اجل کو لبیک کہہ چکے اس گنتی میں آج پشاور کے قصہ خوانی کی مسجد میں شہید ہونے والے 60 نمازی مزید جوڑ لیجئے
زمینی حقائق اور آج دن تک کے حکومتی موقف میں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے حکومت نے ہمیشہ کی طرح اور گذشتہ حکومتوں کی طرح دھماکے کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کا پرانا سر الاپ کر پلا چھڑا لیا
لیکن سوال یہ ہے کہ سکیورٹی ادارے، پولیس اور انٹیلی جینس ایجنسیز ہر بار کی طرح اس بار بھی بم دھماکے کی ساخت اور دھماکے کے بعد انکی جانب سے کیے جانے والی ہلچل یا یوں کہہ لیجئے فرضی کارروائی تک ہی محدود ہیں
چند دنوں بعد مجھ سمیت آپ سب میڈیا چینلز پہ دیکھیں گے کہ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں پشاور کے کوچہ رسالدار کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کو مار گرائیں گے اور دہشتگردی کے خاتمے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کا عزم دہرا کر سب اچھا ہے دکھایا اور کہا جائیگا
پشاور میں ہونے والا دھماکہ بلاشبہ پاک آسٹریلیا کرکٹ سیریز کے تناظر میں پاکستان کا امیج انٹرنیشنل سطح پر خراب کی ایک سازش ہے اسمیں کوئی دو رائے نہیں لیکن کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اس دھماکے میں بھی پرانے طریقہ کار کے مطابق مسجد میں خدا کے حضور جھکے بندگان خدا کو ٹارگٹ کیا گیا اور اہم دن ہی چنا گیا جب دنیا کی بہترین ٹیم پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ میچ کھیل رہی تھی
ہماری حکومت اور اداروں کی جانب سے امن و آتشی اور ملک میں سب اچھا ہے کہ روایتی دعوے چند دن پہلے تک سینہ پھلا کر کیے جاتے رہے لیکن آج 60 افراد کی شہادت نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے دعووں کی نہ صرف قلعی کھولی بلکہ اس جانب بھی اشارہ کیا کہ یہاں ڈنگ ٹپاو کا نظام چل رہا ہے جس کا جو کام ہے وہ اسے یا تو سرے سے نہیں کر رہا یا بس خانہ پوری کی جا رہی ہے
اسلامی تاریخ دیکھی جائے تو دہشتگردی کا باقاعدہ آغاز جامعہ مسجد کوفہ سے ہوتا ہوا کربلا کے بعد پھیلتا ہی چلا گیا مساجد میں نمازیوں کو قتل کرنے والے بلاشبہ اسلام اور پاکستان دشمن لوگ ہیں
مگر کیا ریاست مدینہ ثانی کے امیر اور انکے نیچے یا اوپر کے سب ادارے اپنا اپنا کردار عین ایمانداری سے نبھا کر معاملات کو مذمتوں اور دلی دکھ کے گھسے پٹے ڈائیلاگز سے تبدیل کر کے حقیقی معنوں میں تبدیلی لا پائیں گے
دیکھتے ہیں آپکو اور مجھے وقت اور کیا دکھاتا ہے
