English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ماضی کے قومی فٹبالر”شریف گل”

القمر

ایک وقت تھا کہ پاکستان میں فٹبال کھیل کے فروغ و ترقی میں تعلیمی اداروں کابہت بڑا کردار رہا اسکول و کالج کی سطح پر فٹبال کھیل کو بڑی اہمیت حاصل رہی اور باقاعدہ (فزیکل ٹریننگ) پی ٹی ٹیچر اور کلاسز کا اہتمام کیا جاتا تھا اس دور میں اسکول و کالج کی سطح پر باقاعدگی کیساتھ مختلف علاقائی اور صوبائی سطح پر مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا رہا اور ان ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی پیش کرنے والے کھلاڑیوں کو مختلف محکمہ جاتی ٹیموں کے کوچز اپنے اپنے محکموں کیلیے چنا کرتے تھے ۔ اس طرح ان فٹبالرز کیلئے روزگار کے دروازے کھلے رہتے اس دور میں فٹبال کھیل اپنے عروج پرتھا اور فٹبالرز بھی خوشحال تھے۔ بدقسمتی سے تعلیمی اداروں نے جب یہ سلسلہ ختم کیا اور پاکستان فٹبال میں کرسیوں کی جنگ شروع ہوئی تو یہ فٹبال کھیل تنزلی کی جانب گامزن رہا اور پھر رہی سہی کسر محکمہ جاتی ٹیموں کی بندش نے پوری کرلی اور فٹبالر معاشی بدحالی کاشکار ہوتے گئے اور نتیجتاً بہت سارے قومی ہیروز اس کھیل سے دور ہوتے چلے گئے ‘ اسکول کی سطح پر فٹبال کھیل کا آغاز کرنے والے پاکستان کسٹم کے قومی فٹبالر شریف گل نے بھی اپنے کھیل کا آغاز 1972 لیاری کے قدیمی “بلوچ سکینڈری اسکول” نوالین سے کیا اور اسکول کی سطح پر کراچی و دیگر صوبوں میں اپنے کھیل کے جوہر دکھائے اور ساتھ ساتھ علاقے کے مقامی کلبوں سے بھی کھیلتے رہے شریف گل کا ضلعی سطح پر پہلا کلب “سبز باغ فٹبال کلب” تھا جو اب “سندھ بلوچ فٹبال کلب” کے نام سے ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے بہترین کلبوں میں شمار ہوتا ہے – 1973 میں پی آئی اے یوتھ ٹیم کی تشکیل نو کے موقع پر شریف گل کو نواب کریم الدین جیسے اعلیٰ پائے کے کوچ نے پی آئی اے یوتھ ٹیم کیلئے منتخب کیا اور پی آئی اے کی ٹیم میں ماضی کے عظیم قومی ہیروز جن میں پاکستان کے سابق کپتان غلام سرور سینئرعبدالواحد ابو نعیم گل اور نوشاد بلوچ جیسے نامور قومی ہیروز کیساتھ کھیلتے رہے ساتھ ہی اپنے علاقائی کلب آزاد مسلم فٹبال ٹیم کی تشکیل کیلئے بھی کلیدی کردار ادا کیا کلب کی جانب سے کھیل کے ساتھ کوچنگ کی ذمہ داری بھی نبھاتے رہے ۔ 1984 میں انہوں نے پاکستان کسٹم کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔ دیگر محکمہ جاتی ٹیموں کی بندش کی طرح جب پاکستان کسٹمزفٹبال ٹیم کو بھی ختم کیاگیا تو شریف گل سمیت بہت سے قومی ہیروز فٹبال سے دور ہوتے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے