English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ کے سابق فوجیوں کا یوکرین میں بطور رضاکار لڑنے کا اعلان

القمر

امریکہ کے سابق فوجی اہلکار میتھیو پارکر نے جب سنا کہ روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے تو ان کے ذہن میں یوکرین کے وہ فوجی آئے جنہوں نے عراق کی جنگ میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ انہوں نے تب ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو ان کے ملک کے دفاع میں مدد کریں گے۔

پارکر کا کہنا تھا کہ عراق میں ان کے ساتھ ایک فوجی تھے جن کا تعلق یوکرین سے تھا۔وہ یوکرین کے فوجی امریکہ کے شہری بن گئے اور انہوں نے امریکہ کی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پارکر کا کہنا تھا کہ ان کے اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ انصاف اور دوستی سے متعلق ہے۔

اپنے یوکرینی فوجی دوست کے حوالے سے پارکر کا کہنا تھا کہ وہ انہیں اپنے گھر سے متعلق بتایا کرتے تھے کہ کیسے ان کا خاندان ان پر فخر کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ وہ کیسے اپنی چھوٹی بہن سے متعلق انہیں بتایا کرتے تھے۔

پارکر نے کہا کہ وہ اب سمجھتے ہیں کہ اگر وہ یوکرین جاتے ہیں تو وہ اس فوجی کی ماں، بہن یا اس کے گھر کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ان کے بقول اس طرح سے وہ ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

بوسنیا اور عراق کی جنگیں لڑنے والے پارکر اکیلے امریکی فوجی نہیں ہیں جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم یوکرین کے سفارت خانے کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک تین ہزار امریکی رضاکاروں نے ان کے ملک کی جانب سے مدد کی اپیل کا جواب دیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سے ممالک سے، جن میں سابق سوویت ممالک جارجیا اور بیلاروس بھی شامل ہیں، رضاکاروں نےیوکرین کا دفاع کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔







No media source currently available

سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس سوائے ان کی آزادی چھن جانے کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زلینسکی کی طرح یوکرین کی فوج نے بھی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جنہیں جنگ کا تجربہ ہو اور وہ روس کے خلاف دفاع میں ان کا ساتھ دیں۔

خیال رہے کہ یوکرین نے عارضی طور پر ویزا کی پابندیاں اٹھا لی ہیں۔

پارکر کے مطابق زلینسکی کی جانب سے بین الاقوامی گروہ بنانے کی بات سے معاملات زیادہ واضح ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں جنگ صرف یورپ کے ایک ملک کے دفاع کی بات نہیں ہے ۔ اگر روس اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے امریکہ کے اپنے جمہوری حقوق بھی متاثر ہوں گے۔

پارکر کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی کیرولینا میں اپنے سیکیورٹی کے کاروبار کو چھوڑ کر آئندہ ہفتے یوکرین جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے