اجناس اور بالخصوص تیل کی بلند قیمتوں کی وجہ سے درآمد کنندگان کی جانب سے بڑھتی طلب کی موجودگی میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر روپے کے مقابلے میں اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آفیشل ریٹس کے مطابق پیر کو ڈالر 178.13 روپے پر بند ہونے کے بعد گزشتہ روز 48 پیسے یا 0.27 فیصد یومیہ اضافے کے ساتھ 178.61 پر بند ہوا۔
تاہم انٹربینک ڈیلرز نے یہ 178.70 روپے تک قدرے زیادہ سطح پر بند ہونے سے آگاہ کیا۔
ایک انٹربینک ڈیلر نے کہا کہ طلب کا دباؤ دن کے ابتدائی اوقات سے شروع ہوا جس نے ڈالر کی قیمت کو بلند کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیشن کے اختتام تک دباؤ جاری رہا۔
بیشتر کرنسی ماہرین کا خیال ہے کہ یوکرین کے خلاف روس کی جاری جنگ کے پس منظر میں بیرونی محاذ پر غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے آنے والے دنوں میں ڈالر کا بلندی کی جانب سفر برقرار رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کا پاکستان سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بین الاقوامی منڈیوں میں تیل اور اشیا کی قیمتیں بڑھنے کے سبب ڈالر کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کو ساڑھے 3 ارب ڈالرز موصول
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر شیئر کی گئی تازہ ترین معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کو اب تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے ذریعے 3 ارب 6 کروڑ 32 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر نے حال ہی میں کہا کہ آر ڈی اے کی رقم براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے حاصل کردہ قرضوں سے زیادہ ہے۔
تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ آر ڈی اے کی زیادہ تر سرمایہ کاری نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے لیے ہے جوکہ فروری کے آخر تک 2 ارب 4 کروڑ 94 لاکھ تک بڑھ گئی۔
منبع: ڈان نیوز
The post پاکستان میں ڈالر 178.61 روپے کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا appeared first on شفقنا اردو نیوز.
