روس صدارتی پیلس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں غیر مستحکم حالات کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ "امریکہ روس کے خلاف اقتصادی جنگ چلا رہا ہے”۔
دارالحکومت ماسکو میں جاری کردہ بیان میں پیسکوف نے روس پر سخت اقتصادی پابندیوں کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "روس سے بین الاقوامی کمپنیوں کے انخلاء کی وجہ سے حکومتی کاروائیاں جاری ہیں۔ امید ہے کہ بیروزگاروں کی تعداد لاکھوں تک نہیں پہنچے گی۔ کمپنیاں ملک سے نکل رہی ہیں اور حکومت اس معاملے سے دلچسپی لے رہی ہے”۔
امریکی پابندیوں کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا ہے کہ امریکہ روس کے خلاف اقتصادی جنگ چلا رہا ہے۔ ہم امریکہ کے، روس کی انرجی مصنوعات کی خرید سے انکار کے، فیصلے کا ہم نہیات سنجیدگی سے جائزہ لیں گے اور جو روس کے مفاد میں ہوا وہ کریں گے۔
توانائی کی بین الاقوامی منڈیوں میں اتار چڑھاو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ توانائی کی گلوبل منڈیوں میں صورتحال غیر مستحکم ہے اور اس میں ابھی اور کتنا اضافہ ہو گا کوئی نہیں جانتا”۔
10 مارچ کو ترکی میں متوقع انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف اور یوکرین کے وزیر خارجہ دمتری کولیبا کے درمیان متوقع مذاکرات کے بارے میں پیسکوف نے کہا ہے کہ ” یہ مذاکرات، مذاکراتی مرحلے کا، دوام ہیں اور نہایت درجہ اہمیت کے حامل ہیں”۔
پولینڈ کے یوکرین کو مِگ۔29 جنگی طیارے فراہم کرنے کے امکان کے بارے میں دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ "یہ نہایت درجے ناپسندیدہ اور بحیثیت صلاحیت خطرناک منظر نامہ ہے”۔
