یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے کہا کہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ 10 مارچ کو ہونے والی ملاقات بنیادی طور پر ترک وزیر خارجہ میولوت چاووش اولو کی بدولت ہی منعقد ہو رہی ہے۔
یوکرین کی خبر رساں ایجنسی یونین کی خبر کے مطابق وزیر کولیبا نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات میں کہا کہ وہ ترکی میں لاوروف کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔
کولیبا نے کہا کہ 10 مارچ کو ہونے والے یہ مذاکرات دراصل بنیادی طور پر ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کی کوششوں کے نتیجے میں منعقد ہوں گے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ (صدر رجب طیب) ایردوان نے (روسی صدر ولادیمیر) پوتن کو قائل کیا یا چاووش اولو نے ان مذاکرات کے لیے لاوروف کو قائل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاوروف دو سالوں سےدو طرفہ مذاکرات یا پھر نارمنڈی چار فریقی مذاکرات سے گریز کرتے چلے آ رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اب لاوروف نے اچانک ہی مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے اورشاہد کچھ پیغام ہم تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے پیغام سے آگاہی حاصل کرنا چاہیں گے تاہم ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ لاورف یوکرین کے خلاف جارحیت کے معماروں میں سے ایک ہیں۔
روسی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات میں مقبوضہ کریمیا اور ڈونباس کے ایجنڈے میں شامل ہونے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کولیبا نے کہا کہ ان کا ملک مذاکرات میں کچھ تَرک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔
