کراچی (اسٹاف رپورٹر)لیاری کے قدیم ککری گرائونڈ پر کمپلیکس کے نام پر قبضہ شروع ۔لیاری کے فٹبالرز کا مستقبل دائو پر لگ گیا،سندھ حکومت نے سبز باغ دکھا کر قدیم ککری گرائونڈ کو نام نہاد این جی او کے ہاتھ بیچ دیا۔سندھ حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو بھرپور احتجاج کیاجائے گا۔ فٹبال کلبز عہدیداران کا سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق لیاری کے قدیم ککری گرائونڈ پر قبضے شروعات کردی گئی ہے اس حوالے سے فٹبال کلبز عہدیداران کاسیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیاگیا جس میں سید عبدالرشید ایم پی اے ، جماعت اسلامی ، فضل الرحمن سابق یوسی چیئرمین ، موسیٰ لین جماعت اسلامی ، محمد حسین چانیا، سابق یوسی چیئرمین کھڈہ مارکیٹ، مسلم لیگ ن، رفیق اللہ رکھا، سابق چیئرمین اولڈ ٹائون ایم کیو ایم، حبیب اللہ خان نیازی ،رہنما پی ٹی آئی ، غلام نبی آبشاری سابق نائب ناظم پیپلزپارٹی، کنوینر اقبال خان نیازی ینگ میران فٹبال کلب سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء نے کہا کہ قدیم ککری گراؤنڈ جس نے فٹبال اور کرکٹ کو کئی سپراسٹار کھلاڑی دیے، جس میں آج بھی صبح سے رات گئے تک لیاری اور صدر ٹاؤن کے بچے اپنی مدد آپ کے تحت میچز اور پریکٹس کے زریعے مستقبل کے کھلاڑی بننے کی جدوجہد کررہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے چند ناعاقبت اندیش رہنما اور نام نہاد این جی اوز نے سندھ حکومت کو سبز باغ دکھاکر ککری گراؤنڈ کمپلیکس کے نام پر قابضین کے ہاتھ سونپ دیا۔ اب تک محفوظ رہنے والے اس گراؤنڈ کے مختصر سے پلے ایریا میں جہاں بچے میچ کھیلتے اور پریکٹس کرتے ہیں بزرگ اور خواتین کی کثیر تعداد چہل قدمی کرتے ہیں پر غیر ضروری تعمیرات اور آسٹروٹرف بچھاکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں کے مکینوں پر اس گراؤنڈ کے دروازے بند کرنے جارہی ہے۔ 30 سال قبل لیاری کے سب سے بڑے گنجی گراؤنڈ جس میں بیک وقت تین میچ ہوا کرتے تھے اور جس میں تمام لیاری اور ماڑی پور کے بچے کھیلا کرتے تھے اسی طرح پیپلز اسپورٹس کمپلیکس کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کرکے ایک کمپلیکس تعمیر کیا گیا جس سے لیاری کے بچوں کو ہمیشہ کے لیے کھیل سے محروم کرکے ان بچوں کو جرائم اور منشیات کی طرف دھکیل دیا گیا ۔یہ گھناؤنا کھیل اب ککری گراؤنڈ کے ساتھ ککری گراؤنڈ کمپلیکس کے نام پر کھیلا جارہا ھے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہاں کے اسٹیک ہولڈرز جن میں یہاں کی سیاسی جماعتیں اور تمام اسپورٹس کلب شامل ہیں نے اپنے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی صورت اس گراؤنڈ کی حیثیت کو تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا چاہیے اس کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے۔شرکاء نے آخر میں مطالبہ کیا کہککری گرائونڈ میں غیر قانونی اور غیر ضروری تعمیرات کو فوراً روکا جائے اور اس گراؤنڈ کو واپس اہل علاقہ کے سپرد کیا جائے تاکہ ہمارے بچے جرائم اور منشیات کی جانب راغب ہونے کے بجائے صحت مند سرگرمیوں کا حصہ بن سکیں۔
