کراچی: آسٹریلیا کے خلاف پنڈی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری اسکور کرنے والے پاکستان کے ٹیسٹ اوپنر امام الحق نے کہا ہے کہ یہ اعزاز حاصل کرنے پر بہت خوشی ہوئی، اس میں میری محنت اور والدین کی دعائیں شامل ہیںاچھی کارکردگی پر بہت خوشی ہوئی،تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا، کراچی ٹیسٹ بہت اہمیت کا حامل ہو گا امید ہے کہ میچ کا نتیجہ سامنے آئے گا،
آن لائن میڈیا ٹاک میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امام الحق نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف ایسی پرفارمنس ہوئی، جسے الفاظ میں نہیں بتاسکتا۔ ڈیڑھ سال سے ٹیسٹ ٹیم میں تھا۔ باہر بیٹھ کر بہت کچھ سیکھا۔ پاکستان ٹیم سے باہر رہنے کے دوران مسلسل محنت کرتا رہا،ڈومیسٹک سیزن میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا،موقعہ ملنے پر کوشش کی کہ ون ڈے کی طرح ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اچھی کارکردگی دکھائوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ راولپنڈی کی وکٹ اتنی اچھی نہیں تھی۔ وکٹ بنانے والا میرا رشتے دار نہیں تھا اور نہ ہی میں نے ان کو بولا کہ ایسی وکٹ بنائو،پنڈی وکٹ پر کوئی آسٹریلوی کھلاڑی سنچری اسکور نہ کر سکا۔انہوں نے کہاکہ میں پرفارم کروں یا نہ کروں مجھ پر تنقید ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی،لیکن میں تنقید سے گھبراتا نہیں۔امام الحق نے کہاکہ میری اننگز کوالٹی تھی یا نہیں، یہ کوچز کو پتہ ہے۔ باہر کے لوگوں کی رائے میرے لیے معنی نہیں رکھتی میں کچھ بھی کر لوں، تنقید کا سلسلہ جاری رہے گاکوئی بھی نہیں چاہتا کہ میچ ڈرا ہو،کوشش ہوگی کہ کراچی ٹیسٹ نتیجہ خیز ہو۔
انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا والے بھی بھی اپنی مرضی کی وکٹیں بناتے ہیں،ہمیں بھی اپنی مرضی کی وکٹ بنانے کا حق حاصل ہے،میرے لیے کپتان اور تھنک ٹینک کی رائے اہمیت رکھتی ہے،بیٹنگ کنسلٹنٹ سابق ٹیسٹ کپتان محمد یوسف سے بہت مدد ملی،ون ڈے کرکٹ ٹیم کا مستقل ممبر ہوں،ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اچھی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا،میں نے زیادہ تر بیرون ملک بہتر کارکردگی دکھائی۔
امام الحق نے کہا کہ بعض اوقات فیلڈنگ کی وجہ سے بھی رنز بنانے کی رفتار سست ہو جاتی ہے،شان مسعود کی کارکردگی بھی شاندار رہی ہے لیکن میری پرفارمنس کا بھی جائزہ لیا جائے،سنچری اسکور کرنے پر کپتان بابر اعظم کو اشارہ ذاتی معاملہ تھا،اشارے کا مطلب بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔
