English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سانحہ کوچہ رسالدار پشاور

القمر

تحریر: آفتاب مہمند

ایک تو عالمی طاقتیں دنیا کو ہر طرح سے مضبوط کرنے کی بجائے براہ راست جنگوں، سرد جنگ، گوریلا وار جیسے فتنہ و فساد سے تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ افغانستان کے حالات ہوں، مشرق وسطی، افریقہ کے بعض ممالک، کشمیر، فلسطین سمیت کئی ریجنز میں انسانوں کیساتھ جو ہو رہا ہے یا روس کا یوکرائن پر حالیہ حملہ۔ یقینا ان بڑوں کی لڑائیوں میں عام طبقات کے لوگ چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہیں۔ ایک تسلسل کیساتھ قربانیوں کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور صرف خون ہی خون ہے جو بہایا جا رہا ہے۔

حالیہ سانحہ پشاور جس میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا اسی عالمی لڑائی کی ایک کڑی کہلائی جا رہی ہے۔ سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے اس سانحہ کے حوالے سے جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہ زیب خانزادہ کیساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جہاں امارات اسلامی نے کالعدم تحریک طالبان کو کنٹرول میں رکھا ہوا ہے وہیں ایک بین الاقوامی تنظیم یعنی داعش کیلئے سپیس بہت کم چھوڑی ہے جس نے اب پاکستان میں کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی تنظیم نے پشاور مسجد حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرنیوالی تنظیم بین الاقوامی جنگجو تنظیم ہے۔ حکومت پاکستان، افغان حکومت اسی طرح کئی دیگر قوتیں بھی اسے خطے کیلئے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ بات کی جائے اس سانحہ کے حوالے سے ایک تو جہاں بھی واقعہ رونما ہوتا ہے بجائے اس کے کہ عوام احتیاط سے کام لیں وہ تو اکٹھے ہو کر تماشائی بن جاتے ہیں۔ وقوعہ کے روز دیکھا گیا کہ سینکڑوں لوگ مسجد کے سامنے جمع ہوتے رہے۔ سکیورٹی ادارے انہیں ہٹ جانے کو کہتے رہے لیکن عوام کہاں ہٹتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام کے جم غفیر کے باعث بھی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیش آتی رہی۔

اس سانحہ میں 60 سے زائد افراد شہید جبکہ 200 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ بچوں سے لیکر بزرگ افراد تک کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی خواتین بیوہ ہو گئیں اسی طرح کئی بہنوں، ماؤں، بیٹیوں نے اپنے پیارے کھو دیئے۔ حملہ آور کے مسجد میں داخل ہونے سے لیکر خودکش حملے تک افراتفری و قیامت خیز مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے تو ایسے میں متاثرہ خاندانوں نے امدادی کارروائیوں کے دوران بعض حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالات ضرور اٹھا دیئے کہ بروقت کارروائی نہیں کی گئی جبکہ مقامی آبادی بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف رہی۔

روز اول سے آج تک سانحہ کے حوالے سے چونکہ تمام تر تفصیلات سے پوری قوم بخوبی واقف ہے لہذا تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ واقعہ میں ملوث عناصر کیخلاف سکیورٹی اداروں کا بروقت ایکشن نہایت قابل تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹنگ کے دوران ماضی کی نسبت میڈیا کو اسی مرتبہ زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایمرجنسی صورتحال میں ایسا ہوتا ہی ہے۔

جہاں تک خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال یعنی لیڈی ریڈنگ ، خیبر ٹیچنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کا تعلق ہے یقینا نارمل حالات میں ان تمام ہسپتالوں پر نہ صرف صوبہ بھر بلکہ پڑوسی ملک افغانستان کے مریضوں کا بوجھ بھی رہتا ہے، چاہے نارمل حالات ہوں یا ایمرجنسی وہاں کے لوگ علاج کیلئے یہاں آتے رہتے ہیں جہاں صرف ایمرجنسی یا ہنگامی صورتحال ہوتی ہے اسی کیلئے پھر تو واحد لیڈی ریڈنگ ہسپتال ہے جہاں ایمرجنسی کی صورتحال میں تمام تر بوجھ اسی پر پڑتا ہے۔ بعض مریضوں کو دیگر ہسپتالوں کو بھی ضرور ریفر کیا جاتا ہے۔ سانحہ کوچہ رسالدار کے فوری بعد بھی تمام تر ذمہ داری اسی ہسپتال پر ہی پڑی۔ ہنگامی حالات میں عوام کو ہسپتال انتظامیہ کیساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیئے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کیلئے مزید ایک، دو ہسپتال فوری قائم ہونے چاہئیں۔

جہاں تک اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کرنیوالی تنظیم کا تعلق ہے تو پہلی مرتبہ نہیں اس سے قبل بھی انکی کارروائیاں سامنے آ چکی ہیں جبکہ ایک عالمی قوت پر اس تنظیم کی معاونت کا الزام ہے لہذا یہ باتیں تو کئی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ کی جا چکی ہیں کہ اس ریجن میں تنظیم کو خصوصا چین کی تجارتی ترقی کا راستہ روکنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم کے جنگجو افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد اس پار اور اس پار سرگرم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پشاور کا حالیہ حملہ ایک بین الاقوامی طرز کا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دیکھا جائے تو امریکی انخلاء کے بعد حالات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خطرناک دکھائی دے رہے ہیں اس وقت تو پھر بھی امریکہ اور اس کے اتحادی یکطرفہ دکھائی دے رہے تھے کہ دہشتگردی کیخلاف لڑ رہے ہیں، انخلاء کے بعد تو حالات مکمل گوریلا طرز کی جنگ کے اختیار کر چکے ہیں چاہے وہ خیبر پختونخوا میں اچانک رونما ہونیوالے واقعات ہیں یا بلوچستان میں جو حالات ہیں اور روزانہ حملوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

بی بی سی، وائس آف امریکہ و دیگر ذرائع ابلاغ پر تو آپ بھی یہ خبریں پڑھتے ہونگے کہ لڑائی دو بڑی عالمی طاقتوں یعنی چین و امریکہ کی سپرمیسی کی ہے۔ امریکہ اور اس کے بلاک میں شامل ممالک ہر حالت میں چین کا تجارتی راستہ روکنے کے درپے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 2017ء میں جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے تو چند ہی دنوں بعد انہوں نے چائنا کیساتھ تجارتی معاملات چھیڑ کر دونوں قوتوں ممالک کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اسی طرح چین اور اسکے بلاک میں شامل فورسز بھی نے تو تماشا نہیں کرنا۔ رسپانڈ تو کرنا ہے اور جنگ کے ریجن کا محور تو یہی رہنا ہے لہذا آنے والے دنوں میں خدانخواستہ مزید حملوں کے خدشات موجود ہیں۔

ملکی ذرائع ابلاغ پر خبریں ہیں کہ اگست تک حالات مزید گھمبیر ہو جانے کی صورت میں سکیورٹی اقدامات بڑھا دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ روز محکمہ پولیس نے ایک تھریٹ الرٹ بھی جاری کی ہے کہ ایک پڑوسی ملک کے حملہ آور یہاں داخل ہو گئے ہیں۔ اب تو لڑائی یوکرین تک جا پہنچی ہے گزشتہ روز ایک عالمی خبر رساں ادارے نے یہ خبر لگا دی ہے کہ امریکہ نے تین ہزار افراد یوکرین بھجوا دیئے ہیں تاکہ وہ وہاں لڑ سکیں۔ اسی طرح سینئر اینکر پرسن نجم سیٹھی ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ یوکرین میں روسی حملے کے بعد حالات اب گھمبیر ہوتے جائینگے۔ غور کیا جائے تو روس اس وقت کس بلاک کا حصہ ہے؟ کیا وہ چائنا کے بلاک کا حصہ نہیں؟ بعض عالمی خبر رساں ادارے تو یہ بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان عالمی قوتوں کی سپرمیسی والی لڑائی مزید پھیل سکتی ہے۔

ریجنل حالات یا معاملات۔ وزیر اعظم عمران خان کی اس بات میں یقینا وزن ہے کہ اب ہمیں کسی بھی بلاک کا حصہ بن جانے کی بجائے نیوٹرل رہنا چاہیئے۔ بہرحال کافی عرصہ بعد پشاور میں ایک مرتبہ پھر بڑا سانحہ ہیش آیا۔ صاف ظاہر ہے کہ حملے کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اب ایسا بھی نہیں چاہیئے نائن الیون کے بعد خطے میں ایک عالمی طرز کی جنگ تھی یا امریکہ و اتحادیوں کے انخلاء کے بعد اب جو صورتحال بنتی جا رہی ہے۔ دہشتگردی کیخلاف سپاہی سے لیکر جنرل تک کی بے تحاشا قربانیاں دینے والی افواج پاکستان بھرپور رسپانڈ کرتی آ رہی ہیں۔ یہی تو وجہ ہے کہ عوام اور افواج پاکستان کی ان قربانیوں کے باعث بہت حد تک امن و امان قائم ہو چکا ہے۔ اب بنیادی ذمہ داریاں کسی بھی منتخب حکومت ہی کی ہوتی ہیں کہ وہ ڈٹ کر اپنی فورسز کے ساتھ کھڑی ہو اور تمام ملکی شعبے، طبقات و عوام کو ساتھ ملا کر ایک قوت بن کر ملک کے خلاف سازش کرنیوالوں کو بے نقاب کر کے انکے ناپاک عزائم کو ہمیشہ کیلئے نیست ونابود کر دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے