اقوام متحدہ (یو این) ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ترجمان لِز تھروسل نے کہا کہ روس اور یوکرین جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں روز بروز اضافے پر اور روسی حکام کو شہریوں کے خلاف حملے اور کلسٹر بموں کے استعمال کو جنگی جرائم کے زمرے میں آنے سے متعلق خبردار کیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے جنیوا کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں تھروسل نے کہا کہ 24 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 549 شہری ہلاک اور 957 شہری زخمی ہو چکے ہیں او جبکہ حقیقت میں تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تھروسل نے بتایا کہ یوکرین کے گنجان آباد علاقوں میں روس کے اندھا دھند حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے اور عام شہریوں کو میزائلوں، بھاری توپ خانے کے گولوں، راکٹوں اور فضائی حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ روسی فوجیوں نے اسکول، ہسپتال اور کنڈرگارٹن تک کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم روسی حکام کو یا شہریوں پرحملوں ، بمباری اور قصبوں اور دیہاتوں کو نشانہ بنانے والے دیگر اندھا دھند حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلا کھلم خلاف ورزی ہے جو جنگی جرائم میں شامل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق روسی افواج نے رہائشی علاقوں میں متعدد بار کلسٹر گولہ بارود کا استعمال کیاہے۔
انہوں نے کہا کہ کہ 24 فروری کو حکومت کے زیر کنٹرول ڈونیٹسک کے ووہلیدار علاقے میں سینٹرل سٹی ہسپتال میں کلسٹر بم دھماکہ ہوا، جس میں 4 شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔
