English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مشرق وسطی سے روس جانے والے جنگجوؤں کو یوکیرین میں جنگ کرنے کی اجازت

القمر

روسی  صدر ولادیمیر پوتن نے مشرق وسطیٰ چھوڑ کر روس کی صف  میں حصہ لینے والے "رضاکارانہ جنگجوؤں” کو یوکرین کے جھڑپوں  والے علاقوں میں منتقل کیے جانے کی ہدایت کی ہے۔

آن لائن سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز میں، پوتن نے روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کی یوکرین کی صورتحال کو بیان کرنے والی رپورٹ کو سنا۔

شوئیگو نے کہا کہ 16,000 "رضاکاروں نے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق  مشرق وسطیٰ سے تھے، نے یوکرین کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے درخواست دی تھی۔

چونکہ یہ مطالبات معاوضہ حاصل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کی ذاتی  خواہشات پر مبنی ہیں ، جن کا یقیناً، ہم مثبت جواب دینا درست سمجھتے ہیں۔ ہم ان میں سے بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں، جنہوں نے پچھلی دہائی کے مشکل ترین وقت میں دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جنگ میں ہم سے بھر پور تعاون کیا تھا۔

یہ واضح کرتے ہوئے کہ یوکرین کو ہر طرف سے ہتھیاروں کی بلا کنٹرول ترسیل کی جا  رہی ہے، شوئیگو نے یوکرین کی افواج سے بچا ہوا اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی گاڑیاں نام نہاد علیحدگی پسند انتظامیہ کو منتقل کرنے کی پیشکش بھی  کی۔

صدر پوتن نے بھی  اس موقع پر کہا کہ دنیا بھر سے کرائے کے فوجی یوکرین گئے اور یوکرین کے مغربی حامیوں نے کیف انتظامیہ کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کے تمام اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے پوشیدہ  نہیں رکھا۔

پوتن نے حکم دیا ہے کہ "رضاکارانہ جنگجو” جو مشرق وسطیٰ چھوڑ کر روس کی صف میں  جگہ لیں گے، انہیں یوکرین کے تصادم والے علاقوں میں منتقل کیا جائے گا۔

پوتن نے بتایا  کہ وہ یوکرین سے روسی فوج کے ہاتھوں قبضے میں لیے گئے مغربی ساختہ ہتھیاروں کو نام نہاد علیحدگی پسند انتظامیہ کو دینے کے خیال کی حمایت کرتے ہیں، روس کی مغربی سرحدوں کی مضبوطی کے حوالے سے علیحدہ طور پر  جائزہ لینے  کی ضرورت ہے ، لہذا نیٹو ممالک کی جانب سے اس ضمن میں کیے گئے اقدامات پر انہوں نے ایک علیحدہ  رپورٹ کی درخواست کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے