مسلم لیگ (ق) اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ (ق) لیگ نے اپنے سیاسی مستقبل اور تحریک عدم اعتماد سے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے 48 گھنٹے اہم قرار دے دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کی اکثریت نے مرکزی اور پنجاب حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ (ق) لیگ نے حکومت کے دیگر اتحادیوں ایم کیو ایم، باپ اور جی ڈی اے سے مل کر تحریک اعتماد بارے ایک موقف اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں چودھری پرویز الٰہی کے رابطے جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ (ق) لیگ کے وزرا مونس الٰہی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ (ق) لیگ کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے 24 سے 48 گھنٹے بہت اہم قرار دیئے ہیں۔
دوسری جانبتحریک انصاف کے ناراض رہنما علیم خان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف سے لندن میں ملاقات کی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ناراض رہنما اور سابق صوبائی وزیر علیم خان نے مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف ایک پیج پر آگئے، علیم خان نے لندن میں نوازشریف سے ملاقات کی، اس حوالے سے علیم خان کے انتہائی قریبی ذرائع نے تصدیق کر دی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی طویل ملاقات میں سیاسی امور پر مشاورت کی گئی، علیم خان نے پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بیڈ گورننس کے حوالے سے نوازشریف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جب کہ نواز شریف نے سیاسی رہنما کی حیثیت سے علیم خان کے کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا اہتمام مشترکہ دوستوں نے کیا، ذرائع کا بتانا ہے کہ علیم خان نے لندن آنے سے قبل شہباز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی علیم خان مسلم لیگ(ن) میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کریں گے تاہم تحریک انصاف میں ہم خیال گروپ کی قیادت کریں گے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد دائر کیے جانے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو بظاہر حقیقی خطرہ اپنی ہی جماعت کے اندر سے ہے اور اس کی کڑیاں صوبہ پنجاب سے ملتی ہیں۔ پنجاب میں حکومتی مشکلات کا محور صوبے کے وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ’ناراض اراکین‘ کے گروپ خاص طور پر جہانگیر ترین گروپ چاہتا ہے کہ انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ اس کے بغیر حکمران جماعت سے مزید بات چیت نہیں ہو گی۔ جمعرات کے روز جب وزیرِاعظم عمران خان لاہور میں موجود تھے تو جہانگیر ترین گروپ میں شامل صوبائی اسمبلی کے اراکین نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ تاہم جمعے کے روز وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے پنجاب اسمبلی کے ارکان میں ’ناراض ارکان‘ میں شمار کیے جانے والے غضنفر عباس چھینہ بھی شامل تھے۔
The post کیا عمران خان پیادے کی قربانی دیں گے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
