English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا عمران خان پیادے کی قربانی دیں گے؟

القمر
مسلم لیگ (ق) اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ (ق) لیگ نے اپنے سیاسی مستقبل اور تحریک عدم اعتماد سے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے 48 گھنٹے اہم قرار دے دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کی اکثریت نے مرکزی اور پنجاب حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ (ق) لیگ نے حکومت کے دیگر اتحادیوں ایم کیو ایم، باپ اور جی ڈی اے سے مل کر تحریک اعتماد بارے ایک موقف اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں چودھری پرویز الٰہی کے رابطے جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ (ق) لیگ کے وزرا مونس الٰہی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ (ق) لیگ کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے 24 سے 48 گھنٹے  بہت اہم قرار دیئے ہیں۔
دوسری جانبتحریک انصاف کے ناراض رہنما علیم خان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف سے لندن میں ملاقات کی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے ناراض رہنما اور سابق صوبائی وزیر علیم خان نے مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف ایک پیج پر آگئے، علیم خان نے لندن میں نوازشریف سے ملاقات کی، اس حوالے سے علیم خان کے انتہائی قریبی ذرائع نے تصدیق کر دی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی طویل ملاقات میں سیاسی امور پر مشاورت کی گئی، علیم خان نے پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بیڈ گورننس کے حوالے سے نوازشریف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جب کہ نواز شریف نے سیاسی رہنما کی حیثیت سے علیم خان کے کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا اہتمام مشترکہ دوستوں نے کیا، ذرائع کا بتانا ہے کہ علیم خان نے لندن آنے سے قبل شہباز شریف سے بھی لاہور میں ملاقات کی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی علیم خان مسلم لیگ(ن) میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کریں گے تاہم تحریک انصاف میں ہم خیال گروپ کی قیادت کریں گے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد دائر کیے جانے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو بظاہر حقیقی خطرہ اپنی ہی جماعت کے اندر سے ہے اور اس کی کڑیاں صوبہ پنجاب سے ملتی ہیں۔ پنجاب میں حکومتی مشکلات کا محور صوبے کے وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ’ناراض اراکین‘ کے گروپ خاص طور پر جہانگیر ترین گروپ چاہتا ہے کہ انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ اس کے بغیر حکمران جماعت سے مزید بات چیت نہیں ہو گی۔ جمعرات کے روز جب وزیرِاعظم عمران خان لاہور میں موجود تھے تو جہانگیر ترین گروپ میں شامل صوبائی اسمبلی کے اراکین نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ تاہم جمعے کے روز وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے پنجاب اسمبلی کے ارکان میں ’ناراض ارکان‘ میں شمار کیے جانے والے غضنفر عباس چھینہ بھی شامل تھے۔
دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے حوالے سے جماعت کے سیکریٹری جنرل اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ سے منصوب کر کے مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی ہے کہ وزیرِاعظم کی طرف سے پنجاب میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بی بی سی نے اس حوالے سے تصدیق کے لیے ق لیگ کے سیکریٹری جنرل اور وفاقی وزیر بشیر چیمہ سے رابطہ کیا تاہم ان کا جواب نہیں آیا۔وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ہم نے ق لیگ کے تحفظات دور کر دیے ہیں۔ پنجاب میں معاملہ ایک انار سو بیمار والا ہے۔‘ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار ایک سے زیادہ ہیں۔تاہم جمعرات کو لاہور کے دورے پر وزیرِاعظم عمران خان نے وزیرِاعلیٰ پنجاب پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔
مبصرین کے مطابق حکمراں جماعت کی مشکل یہ ہے کہ وہ اگر وزیرِاعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرتی ہے تو نیا وزیرِاعلیٰ کون ہوگا۔ کیا وہ پی ٹی آئی کے اندر ہی سے اٹھنے والے ’ناراض اراکین‘ میں سے ہوگا تاکہ انھیں منا لیا جائے؟ یا پھر اتحادی جماعت ق لیگ میں سے ہوگا تاکہ گجرات کے چوہدریوں کی حمایت سے فوری طور پر درپیش عدم اعتماد جیسی مشکلات سے نکلا جا سکے۔۔۔ یا پھر کیا کوئی تیسرا شخص ہو سکتا ہے؟وزیراعظم عمران خان کو وفاقی حکومت کے کئی اہم سینئر وزراء نے عثمان بزدار کی تبدیلی کا مشورہ دیا ہے۔وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری بھی پنجاب میں وزرات اعلیٰ کی تبدیلی کے سب سے بڑے حامی ہیں۔وفاقی وزیر اسد عمر اور گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی ملک کے سب سے بڑے صوبے میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔وزیر دفاع پرویز خٹک بھی پنجاب میں گورننس میں بہتری اور پارٹی امیج بہتر کرنے کے لیے عثمان بزدار کی تبدیلی کے حامی ہیں۔ اس لیے اس وقت سارا کھیل پنجاب میں کھیلا جا رہا ہے اور عمران خان کی گدی سے زیادہ سائیں بزدار کی گدی کو خطرہ ہے۔ہفتہ، 12 مارچ 2022

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

The post کیا عمران خان پیادے کی قربانی دیں گے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے