وزارت اعلی کی دوڑ میں پنجاب سے مختلف گروپ شامل ہو رہے ہیں جس میں ایک مضبوط گروپ ق لیگ کے چوہدری برادران کا بھی ہے گذشتہ دنوں سے حکومت اور ق لیگ کے درمیان معمولی نوعیت کی نوک جھوک اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے نجی ٹی وی کو دیے بیان کے بعد صورتحال تیزی سے بدل رہی ہےلاہور میں ق لیگ کے مرکز اور اطراف میں چوہدری پرویز الہی کے حق میں فلیکسز آویزاں کر دیے گئے ہیں جس پہ نعرہ درج ہے “پنجاب کی مجبوری ہے ، پرویز الہی ضروری ہے” واقفان حال ایم کیو ایم کے بعد ق لیگ کی جانب سے بھی حکومت سے رشتہ ختم کرنے کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں چوہدری پرویز الہی خود اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد سے زائد اراکین موجود ہیں جس کے رہتے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت جانے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا البتہ ق لیگ ہے ہی چوہدری شجاعت اپوزیشن اور حکومت کو جلسے جلوسوں سے باز رہنے کی درخواست کر چکے ہیں۔ 25 مارچ کو اپوزیشن اور 27 کو پی ٹی آئی ڈی گراونڈ میں پڑاو ڈال کر خود کو سچا محب وطن ثابت کرنے کی کوششوں میں ہیں موسم کس پہ مہربان ہوتا ہے یہ مالک غفور و رحیم ہی جانتا ہے البتہ اب حالات حکومت کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتے نظر آرہے ہیں۔
پنجاب کا وزیر اعلی کون بنے گا؟
القمر
