مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل میں پسند دائیں بازو کے انتہا کارکن نے جزیرہ نقب کے علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے مسلح گروہ تشکیل دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق آبادکاروں کے تحفظ کے نام پر بنائے گئے اس گروہ میں دہشت گردوں کو جمع کیا جارہا ہے۔ عبرانی اخبار ہارٹز کے مطابق انتہا پسند ایتمار بن گوریرکی قیادت میں میں مسلح گشت میں اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں اور اسے پولیس اور بیر شیبہ میونسپلٹی کے تعاون سے تشکیل دیا گیا تھا۔ اخبارنے نشاندہی کی کہ گشت میں شامل ہونے والے سیکڑوں افراد کو رضاکارانہ فارم پر دستخط کرنے کے لیے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جزیرہ نقب میں آبادکاروں کے تحفظ کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس دہشت گرد گروہ کا مکمل طور پر سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور اس نے پولیس کی سیکورٹی میں مسلح ہوکر مقبوضہ علاقوں کا گشت کرکے ان پر حملے بھی شروع کردیے ہیں۔ دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی نوجوان نے آبادکار پر چاقو سے حملہ کردیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ بیت المقدس میں اسرائیلی شہری پر چاقو حملہ کرنے والا شخص پولیس کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔ ادھر مغربی کنارے میں کئی مقامات پر اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران درجنوں فلسطینی مظاہرین زخمی ہو گئے۔ نابلس ، بیت دجان اور شمالی مغربی کنارے میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔
