کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ماضی کی طرح موجودہ حکومت نے بھی پی ایف سی ایوارڈ کا اعلان نہیں کیا اور کراچی کو اس کا حصہ نہیں دیا،کراچی کو لاوارث شہر سمجھا گیا ہے جسے نہ سندھ حکومت اور نہ وفاقی حکومت اون کرنے کے لیے تیار ہے ،جماعت اسلامی نے 2021کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف مسلسل 29دن دھرنا دیا، اوکٹرائے ضلع ٹیکس ،موٹر وہیکل ٹیکس ،پی ایف سی ایوارڈ میں سے کراچی کو حصہ اورکراچی کے میئر کو واٹر بورڈ کا چیئرمین بنانے کے ہمارے مطالبات عوام کی جدوجہد سے منظور کیے گئے ۔جن مسائل کا تعلق کابینہ سے تھا اسے سندھ حکومت نے کابینہ کے ذریعے سے منظور کروایا اور چند ایشوز ایسے ہیں جن پر مذاکرات جاری ہیں امید ہے کہ وہ بھی منظور ہوجائیں گے۔جن پارٹیوں کو اقتدار ملاانہوںنے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ کو فروخت کیا ، کراچی کے عوام ہمارے دست و بازو بنیں ،ہم کراچی کے حقوق حاصل کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سائٹ ایریا ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ان کے دفتر میں ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرسائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹریز کے صدر عبدالرشید ،سینئر نائب صدر سعود محمود ،سابق صدور عبدالہادی، مجید عزیز، جاوید بلوانی، سلیم پاریکھ ،معروف صنعتکار بابر خان،ڈپٹی سکریٹریز عبد الرزاق خان ، عبد الرحمن فداواراکین مینیجنگ کمیٹی ودیگر عہدیداران شامل تھے ۔سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹریز کے صدر عبدالرشید نے حافظ نعیم الرحمن کا خیر مقدم کیا اور کراچی کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ کوششوں پر جماعت اسلامی کی جدوجہد کو سراہا اور اس اُمید اظہار کیا کہ کراچی کی صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی آئندہ بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ۔حافظ نعیم الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی کے عوام نے ماضی میں ایم کیو ایم کو مینڈیٹ دیا اور اب پی ٹی آئی کوبھرپور مینڈیٹ دیا لیکن ان دونوں جماعتوں نے کراچی کے عوام کے امیدوں کا خون کیا ۔ایم کیو ایم نے 35سال سیاست کر کے کراچی کے عوام کی نسلیں تباہ کردیں،تعلیمی ادارے برباد کردیے ،ایم کیوایم صوبے کی بات کرتی ہے ،مشرف کے دور میں گورنر بھی ان کاتھا اور میئر بھی تو اس وقت چاہتے تو یہ صوبہ بناسکتے تھے لیکن نہیں بنایا صرف لسانیت و عصبیت کی سیاست کر کے شہریوں کوآپس میں لڑوایا اور ذاتی مفادات حاصل کیے ،اب ایم کیو ایم کوٹہ سسٹم میں 40اور60فیصد کی بات کررہی ہے جو پہلے سے آئین میں موجود ہے لیکن اب تو شہر کی آبادی کے تناسب سے کوٹہ سسٹم میں 52فیصد شیئرز ملنا چاہیئے لیکن ایم کیوا یم مینڈیٹ رکھنے کے باوجود یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتی؟،جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی کراچی کے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور آئندہ بھی ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہاکہ پانی کا مسئلہ صنعتی اور رہائشی علاقوں دونوں جگہوں کا مسئلہ ہے ،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے لیے 14500ملین گیلن کی ضرورت ہے ، آج انڈسٹری اور آبادیوں کے لیے پانی موجود نہیں ہے ،پانی کاآخری منصوبہ K3سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے مکمل کیا تھا اس کے بعد کی حکومتوں نے پانی کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا ،17سال گزرگئے ایک بوند پانی کا اضافہ نہیں ہوا،کے فور منصوبہ میں 650ملین گیلن پانی کی منظوری ہوگئی تھی جسے 260ملین کردیا گیااوریہ 260ملین گیلن بھی تین سال بعد دیا جائے گا کراچی کے عوام ابھی پانی کے لیے کیا کریں کہاں جائیں ؟، انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 158کے تحت کے الیکٹرک کو گیس فراہم کررہی ہے لیکن گھریلو صارفین اور انڈسٹریز کو گیس نہیں دی جارہی ،کے الیکٹرک ایک پرائیویٹ کمپنی ہے جس میں حکمرانوں کے اپنے اپنے کھاتے بندھے ہوئے ہیں اسی لیے کے الیکٹرک کی مکمل سرپرستی کی جاتی ہے اورکوئی بھی اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی عوام کی نمائندہ جماعت ہے عوامی مسائل کے حل کے لیے حقوق کراچی تحریک جاری رکھے گی ۔
