کراچی: وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ آئین میں لکھا ہے کہ اسپیکر نے 14 دن میں اسمبلی اجلاس بلانا ہے، اسپیکر نے 14 روز کے اندر اجلاس نہ بلا کر آئین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی بنتی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا کہ حکومت نے او آئی سی اجلاس کو آڑ بنا کر آئینی عمل کو تاخیر کا شکار کیا، تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد 3 سے 7 دن کے اندر ووٹنگ ہونی ہے، بطور ایم پی اے ہم سب نے حلف اٹھایا کہ آئین کی پاسداری کرینگے، اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی اور عمران نیازی کی وفاداری نبھائی، اسپیکر صاحب کو جلد عدم اعتماد تحریک اسمبلی میں پیش کرنی تھی، اسپیکر اور چول کے ٹولے نے عدم اعتماد میں تاخیر کی کوشش کی۔
سعید غنی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 154 ہے، جبکہ باقی پی ٹی آئی کے اتحادی ہیں، اتحادیوں کے باوجود حکومت کے پاس نمبرز پورے نہیں ہیں، عدم اعتماد آئینی حق ہے، پی ٹی آئی کے کچھ ارکان عمران خان پر عدم اعتماد کر گئے ہیں، اتحادی کو ملانے کے بعد بھی عمران خان پر عدم اعتماد بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ ارکان اسمبلی کے گھروں پر حملہ کریں یہ ہر وہ کام کر رہے ہیں جو اپوزیشن کو کرنا چاہئے، ایم این ایز کے گھروں پر حملہ کیا جا رہا ہے اور ان کو دھمکیاں دی جا رہی ہے، اراکین کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہیں، ایک وزیر کہتا ہے ہم ان کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات کرینگے۔
سعید غنی نے کہا کہ پہلے پارلیمنٹ لاجز پر اسلام آباد پولیس نے حملہ کیا، پارلیمنٹ لاجز سے جے یو آئی ارکان کو گرفتار کیا گیا، پارلیمنٹ لاجز کے دروازے توڑے گئے ممبران پر تشدد کیا گیا۔
