اسلام آباد: وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر سال دو سو ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے‘ بجلی چوری کی روک تھام کے لئے اے بی سی کیبلز اور اے ایم آر میٹر کی ضرورت ہے، ابتدائی طور پر صوبہ خیبرپختونخوا میں اے بی سی کیبلز کے پروجیکٹ پر کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ تجرباتی بنیاد پر اسلام آباد میں اے ایم آر میٹر لگائے جارہے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اﷲ ابڑو کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا، جس میں وزارت توانائی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے راستے بند ہونے پر کمیٹی کا اجلاس بروقت شروع نہ ہوسکا، اجلاس میں سینیٹر پیر صابر حسین شاہ کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ غازی بروتھا اور اردگرد و نواح میں تربیلا سے جو ہائی پاور ٹرانسمیشن گزاری جارہی ہیں ان کے نیچے زمینوں کا ماسوائے کاشت کاری کے کوئی مصرف نہیں اس وقت زمین کی قیمت آٹھ سے دس لاکھ روپے مرلہ ہے وہاں پر نہ کوئی کنسٹرکشن ہوسکتی ہے، نہ گھر بن سکتے ہیں اور اگر کوئی آدمی ان ہائی وولٹیج تاروں کے نیچے بیٹھ جائے تو اس کا ذہنی توازن خراب رہنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔
اس پر یہ کہ نئی تاریں بھی بچھائی جارہی ہیں علاقے کے عوام پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکے ہیں انہیں مراعات دی جائیں۔
وزارت توانائی کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس سلسلے میں ہم 1932کے ایکٹ پر عمل کررہے ہیں اگر حکومت چاہے اس پر قانون سازی کرسکتی ہے۔
پیر صابر حسین شاہ نے کہا کہ کتنے ستم کی بات ہے کہ انگریزوں کے دور کے قانون آج بھی لاگو ہیں اور انہیں 32پیسے کے حساب سے مراعات دی جارہی ہیں۔ اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ وزارت توانائی پیمنٹ صرف پول کے نیچے آنے والی زمین کی ادا کرتی ہے جبکہ جہاں سے کیبلز گزر رہی ہیں اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جارہی۔
جس پر چیئرمین کمیٹی سیف اﷲ ابڑو نے کہا کہ وزارت توانائی اگلے اجلاس میں اس سلسلے میں مکمل ڈرافٹ تیار کرکے کمیٹی کو پیش کرے تاکہ اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل بنایا جاسکے اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جاسکے۔

