English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پائمانے بجٹ تجاویز برائے2022-23ایف بی آر کو ارسال کردی

پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن(پائما) نے نئے وفاقی بجٹ برائے2022-23کے لیے تجاویز مرتب کرکے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کر دی ہیں جس میں کسٹم ڈیوٹی،سیلز ٹیکس،ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی درخواست کرتے ہوئے ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے

۔پائما چیئرمین ثاقب نسیم، وائس چیئرمین سندھ بلوچستان ریجن محمد جنید تیلی، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے بجٹ، ٹیکسیشن فرحان اشرفی نے بجٹ تجاویزمیں کہاہے کہ پولیسٹرپری اورینٹڈیارن(پی اووائے5402-4600) پر 13فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے جس کو بغیرکسی اضافی کسٹم ڈیوٹی کے ایس آر او یا بذریعہ ٹیرف 7فیصد کیا جائے۔پی او وائے پالیسٹر ٹیکسچرائزڈ یارن(ڈی ٹی وائے) تیار کرنے کے لیے ایک درمیانی یارن ہے جسے ہندوستان، چین،ویت نام اور بنگلہ دیش میں مکمل طور پر علیحدہ صنعت سمجھا جاتا ہے۔

پولیمرائزیشن پلانٹس کے لیے بھاری سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے برعکس ایس ایم ای سیکٹر کے ذریعے ٹیکسچرائزنگ یونٹس آسانی سے قائم کیے جا سکتے ہیں مزیر برآں یہ صنعت بین الاقوامی منڈیوں میں ڈی ٹی وائے بھی برآمد کر سکتی ہے۔پائما کی بجٹ تجاویز کے مطابق پولیسٹر فلی ڈران یارن(5402-4700) پر 11فیصد کسٹم ڈیوٹی عائدہے جبکہ پائما نے نئے بجٹ میں اس پر کسٹم ڈیوٹی کو ایس آر او یا بذریعہ ٹیرف 7فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

اسی طرح پالیسٹر ٹیکسچرائزڈ یارن پر بھی کسٹم ڈیوٹی 11فیصد سے کم کرکے9فیصد کی جائے کیونکہ آرٹیفیشل، سنتھیٹک یارن سے تیار کردہ کپڑا عام آدمی استعمال کرتا ہے لہٰذا اگر یہ مہنگا ہوا تویہ لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوجائے گا۔پائما رہنماو¿ں نے پولیسٹر اسپن یارن پر عائد 2فیصد ریگولیٹر ڈیوٹی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے زیرو فیصد یعنی ختم کرنے کی تجویز دی جوکہ ویونگ اور نٹنگ انڈسٹری کابنیادی خام مال ہے لہٰذا اس پر آرڈی کا نفاذ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔بجٹ تجاویز میں سیلز ٹیکس کی موجودہ 17فیصدشرح کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جوکہ ایڈجسٹ ایبل ہے۔

پائما رہنماو¿ں نے کمرشل امپورٹرز اور مینوفیکچررز کے درمیان تفریق ختم کرنے کی بھی درخواست کرتے ہوئے تجویز دی کہ یارن کے کمرشل امپورٹرز اور مینوفیکچررز پر دوہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح یکساں بنیاد پر ایک فیصد کی جائے جو فی الوقت کمرشل امپورٹرز پر 2فیصد ہے جبکہ ایس آر او1125کے تحت مینوفیکچررز پر ودہولڈنگ انکم ٹیکس صرف ایک فیصد ہے۔اسی طرح یارن کے ٹریڈرز پر 0.5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کوکم کرے 0.25 فیصد کیا جائے۔

ثاقب نسیم، جنید تیلی اورفرحان اشرفی نے بجٹ تجاویز میں بتایا کہ مسلسل کاروباری مندی اور غیرمستحکم معاشی صورتحال کے وجہ سے یارن ٹریڈرز اس پر آمادہ نہیں ہیں اور وہ ایف بی آر میں رجسٹریشن سے ہچکچارہے ہیں جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں خطیر نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے اس کے علاوہ ٹرن اوور ٹیکس کے حوالے سے اناملی کی نشاندہی بھی کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ا س بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ اسے0.1فیصدہی رہے گا لہٰذا یہ تجویز دی گئی کہ ٹرن اوور ٹیکس کو 0.1فیصد رکھا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے