اسلام آباد : لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نےکہا کہ عمران خان بزدار سے پہلے اپنے استعفے پر دستخط کریں ،انہیں اپنا بوریہ بستر صیح طریقے سے باندھ لینا چاہیئے۔
راناثنااللہ کا میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا ہم نے تو ویسے بھی 172 ووٹ پورے کر لئے منحرف ارکان کو ساتھ ملائیں تو گنتی 192 ہو جائے گی ، کل اسمبلی میں 160 سے زائد لوگ ہمارے تھے ۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ لزام لگایا کہ نوٹوں کی بوریوں کا لالچ دیا جارہا ہے،اگر ثبوت ہے تو لیکر آئیں ، حکومت کے پاس وسائل ہیں ، نوٹوں کی بوریوں کے ثبوت ہیں تو سامنے لائے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ناراض اراکین آج سے نہیں ڈیڑھ 2 سال سے ناراض ہیں ،انہوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر الزمات کی تردید کی ،سیاسی جماعتیں اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کی حکومت کے 6 دن باقی رہ گئے ہیں، ان کے پاس ایک ہی باعزت راستہ ہے کہ استعفیٰ دیں ،نااہل اور نالائق ٹولے سے ملک کی جان چھوٹنے والی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تو پی ٹی آئی کے لوگوں کو شامل کرنے کی ضرورت نہ پڑے ،پی ٹی آئی کے 5 ارکان میں سے 4 تو آزاد تھے ۔
ق لیگ کے بارے میں کہا کہ ا ن سے کہا تھا کہا آپ کے صرف 10ممبر ہیں ، وزارت اعلیٰ کیسے دے دیں ؟علیم خان گروپ کے پاس 30 سے 40 لو گ ہیںاگر وزارت دیں تو علیم خان گروپ کو دیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بزدار گروپ پوچھ رہا ہے کہ کیا عالمی سازش صرف ہمارے لیے تھی؟ جس کی وجہ سے بزدار سےاستعفیٰ لےلیا گیا ۔
رانا ثنا اللہ نے کہاکہ فواد چودھری کے بھائی نے ہمیں ووٹ کی یقین دہانی کرائی ہے ،فواد چودھری کو چینلج کرتا ہوں میرے بیان کی تردید کرا کر دکھائیں ،ضرورت پڑی تو شاہ محمود قریشی کے گھر سے بھی ووٹ ملے گا ۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات کر ہے ہیں ،ایم کیو ایم حکومتی سیاسی کمیٹی میں رہ کر اپنا گھر نہیں سنبھال سکتےتھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کے مشوروں پر عمل ہو جاتا تو شاید ہمارے لیے کچھ مشکلات ہو جاتیں ۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ علی وزیر جیل میں ہیں انکا پروڈکشن آڈر جاری ہونا چاہئیے ۔

