استنبول میں منعقدہ روس۔ یوکرین اجلاس کے اختتام پر روسی وفد نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے بعض شقّوں پر اتفاق کر لیا ہے۔ یوکرین کی تجاویز کو ہم روس کے صدر ولادی میر پوتن تک پہنچائیں گے۔ دونوں طرف کے وزرائے خارجہ کے درمیان اتفاق کی صورت میں پوتن۔ زلنسکی مذاکرات ممکن ہو سکیں گے”۔
مذاکرات میں شامل روس کے نائب وزیر دفاع الیگزینڈر فومینو نے بھی کہا ہے کہ "ہم نے کیف اور چیرنیگیف کے اطراف میں فوجی کاروائیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یوکرین کے وفد نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم ترکی سمیت 8 ممالک کو بحیثیت ضامن ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم، روس کے ساتھ سمجھوتے پر، ضامن ممالک کے ساتھ مل کر دستخط کریں گے”۔
وفد نے کہا ہے کہ ” ہم نیٹو میں شامل نہیں ہوں گے لیکن یورپی یونین کی رکنیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، لہٰذا سمجھوتے میں کوئی چیز ہماری یورپی یونین رکنیت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ کریمیا کے معاملے کو بھی حل کیا جانا چاہیے۔ کریمیا اس وقت مقبوضہ علاقہ ہے”۔
وفد نے کہا ہے کہ” ہم نے روس کو مذاکرات کے دوام کے دوران طاقت کے استعمال سے پرہیز کی تجویز پیش کی ہے۔ ہم نے مقابل فریق کو اپنی پوزیشن سے آگاہ کر دیا ہے اور ان کے جواب کے منتظر ہیں”۔
