English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدم اعتماد ملک کیخلاف بڑی سازش ہے،عمران خان

القمر
اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید ای پاسپورٹ پیش کررہے ہیں

اسلام آباد( نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد بڑی سازش ہے،موجودہ بحران بیرون ملک سے درآمد شدہ ہے، یہ ڈراما نہیں بلکہ حقیقت ہے، دھمکی آمیز خط بھیجنے والے ملک کا نام لیاتونتائج اچھے نہیں ہوںگے، امریکامیں پاکستانی سفیرنے دفترخارجہ کوخفیہ مراسلہ بھیجا،غیرملکیوںکو عادت نہیں کوئی پاکستانی قیادت ملکی مفادات کومقدم رکھے، خط عسکری قیادت سے شیئرکرلیا ، پارلیمنٹ کو ان کیمرا بریفنگ دینگے۔ یہ باتیں انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس ، سینئرصحافیوں سے گفتگواوراسلام آباد میں الیکٹرونک پاسپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو دھمکی آمیز خط دکھا تے ہوئے کہا کہ میں نے ہر مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ،میری حکومت گرانے کے لیے بھاری رقم بھی دی گئی، خط پر قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہان کو بھی اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں اتحادی جماعت ق لیگ کے وفاقی وزیر مونس الٰہی، بی اے پی کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بھی شرکت کی۔ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی، انہوں نے کہا کہ مصروفیت کے باعث اجلاس میں نہیں آسکتا جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم بھی کابینہ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس کے دوران خفیہ خط کے معاملے پر ارکان کو اعتماد میں لیا گیا۔ ارکان کو بتایا گیا کہ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے دفتر خارجہ کو خفیہ مراسلہ بھیجا، اسد مجید نے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی ایشیا سے ملاقات کے بعد یہ مراسلہ بھیجا۔ کابینہ سے خط کے مندرجات شیئر کر کے خط کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سیل کردیا گیا۔و زیر اعظم کا کا کہنا تھا کہ میرے خلاف عالمی سازش کی گئی ہے۔ کابینہ نے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ دریں اثناء ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران خفیہ خط کی مندرجات کے بارے میں بتایا۔ مندرجات کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا مقصد وزیراعظم کو ہٹانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی آزاد ہے، پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کو پسند نہیں کیا جا رہا، آنے والے دنوں میں آپ کے لیے حالات مزید مشکل ہوں گے۔ مندرجات میں بتایاگیا کہ اگر عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو ریاستِ پاکستان کے ساتھ معاملات بہتر کر سکتے ہیں، آنے والے دنوں میں آپ کے لیے حالات مشکل ہو سکتے ہیں، اگر عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو مشکلات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقیوزیر اسد عمر نے دھمکی آمیز خط سے متعلق بریفنگ دی اور خط سے متعلق صرف مندرجات شیئر کیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بتایا کہ خط عسکری قیادت سے شیئر کیا جا چکا ہے، خط میں جو زبان استعمال ہوئی وہ بتا بھی نہیں سکتے۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ خط پر پارلیمنٹ کو ان کیمرا بریفنگ دیں گے جبکہ یہ خط ہمارے اپنے سفیر کی جانب سے لکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ خط سے متعلق ملک کا نام نہیں بتا سکتے، خط پر نیشنل سیکورٹی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں وزیر اعظم نے اسلام آباد میں الیکٹرونک پاسپورٹ سہولت کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ایک جائز جمہوری طریقہ ہے لیکن موجودہ بحران بیرون ملک سے درآمد شدہ ہے اورپاکستان کے خلاف ایک بڑی عالمی سازش ہے، اس کا میرے پاس دستاویزی ثبوت ہے چونکہ اس پر شک کیا جارہا ہے کہ عمران خان اپنی حکومت بچانے کے لئے اس طرح کررہا ہے اس لیے اب یہ دستاویزسینئر صحافیوں اور اتحادیوں کو دکھا نے کا فیصلہ کیا ، لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی ڈراما ہو رہا ہے، یہ ڈراما نہیں ہورہا بلکہ حقیقت ہے، ہم صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ ہم اپنے ملک کے مفاد کا تحفظ کرنا چاہتے تھے اس لیے ہم پوری طرح لوگوں کو بتا نہیں سکتے کہ وہ کن ممالک کے کون سے لوگ باہر تھے جنہوں نے یہ ہمیں دھمکی دی ہے ۔مزید برآں وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی سربراہ کی ملاقات ہوئی۔ نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق اس ملاقات میں سیاسی فریقین کے لیے قابل قبول آپشن دینے پر غور کیا گیا جبکہ حکومت اور اپوزیشن کو صورتحال سے نکلنے کے لیے فیس سیونگ دینے پر بھی مشاورت کی گئی۔ایکسپریس نیوز کو وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق سول اور عسکری حکام نے اگلے عام انتخابات پربیک ڈورمذاکرات شروع کرنے پر غور کیا۔ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کو ایسا آپشنز دینے پر غور کیا گیا جو حکومت اور اپوزیشن کو قبول ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں عمران خان کے وزیراعظم رہنے کے دورانیے سے متعلق بھی گفتگو کی گئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے کی گئی انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کے اعتراضات دور کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ممکنہ فیس سیونگ معاہدے کے مطابق قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں عام انتخابات کا اعلان کیا جائے گا جبکہ عام انتخابات کے انعقاد اور عبوری حکومت کی مدت پر بھی مشاورت کی گئی۔اس اہم بیٹھک میں یہ بھی طے پایا کہ حزب اختلاف کے رضا مند ہونے تک کوئی چیز حتمی نہیں ہو گی، حکومت اور حزب اختلاف کے اتفاق کے بعد مکمل پیکیج پارلیمنٹ میں لایا جائے گا، اتفاق نہ ہونے پر تحریک عدم اعتماد کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے