اسلام آباد(صباح نیوز)ایم کیوایم نے مشکل وقت میں وزیراعظم عمران خان کا ساتھ چھوڑتے ہوئے بھاری مراعات کے بدلے متحدہ اپوزیشن میں شمولیت کا اعلان کردیا۔متحدہ قومی موومنٹ کے2 وفاقی وزر ا امین الحق اور فروغ نسیم نے اپنے استعفے وزیراعظم عمران خان کو بھیج دیے۔ ایم کیو ایم کے مطابق حکومت سے معاملات طے نہ پانے کی وجہ ان کی سست روی ہے، وزیراعظم عمران خان انا کا شکار رہے، وہ اپنے وزرا کو بھیجتے رہے لیکن خود نہیں آئے ، جبکہ اپوزیشن کی پوری قیادت ہمارے پاس بار بار آئی۔ ایم کیو ایم نے کہا کہ عمران خان اب خود بھی آجائیں تو بہت دیر ہوچکی اور ہم فیصلہ کرچکے ہیں ۔ایم کیوایم پاکستان اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان 18 نکات پرمشتمل معاہدہ طے پاگیاہے معاہدے کو’’چارٹرآف رائٹس ‘‘کانام دیا گیاہے معاہدے پرایم کیوایم کی جانب سے خالد مقبول صدیقی اورپیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول زرداری نے دستخط کیے ہیں جبکہ معاہدے پر شہباز شریف، مولانافضل الرحمن،اخترمینگل اورخالد مگسی نے بطورضامن دستخط کیے۔ معاہدے کے نکات کے مطابق لوکل گورنمنٹ ایکٹ پرعدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق عمل ہوگا ۔سرکاری ملازمتوں پر طے شدہ کوٹہ شہری اوردیہی سندھ کے مطابق عمل کیا جائے گا۔جعلی ڈومیسائل پر تحقیقات کے بعد اسے منسوخ کردیاجائے گا۔ ملازمتوں کے کوٹہ کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی جائے گی جواسے مانیٹر کرے گی اورگریڈ ایک سے15 تک کی ملازمتوں پرسختی سے مقامی حکومتوں کے حوالے سے عمل کیاجائے گا۔معاہدے کے مطابق امن وامان کی بہتری اوراسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے مقامی پولیسنگ کانظام متعارف کرایاجائے گااور شہری اوردیہی علاقوں کی ترقی کے لیے مشترکہ کمیٹی کام کرے گی اورخصوصی پیکج کااعلان ہوگا۔ معاہدے کے مطابق کراچی کے ماسٹرپلان کے لیے فوری طورپر نوٹیفیکیشن نکال کر کام کیاجائے گا۔ دونوں جماعتوں نے کراچی ٹرانسپورٹ سسٹم کو اپ گریڈ کرنے پراتفاق کیا ہے اورسیف سٹی منصوبے کو فوری مکمل کیاجائے گا ۔معاہدے کے مطابق دونوں جماعتیں کاٹیج انڈسٹریل زون بنانے پربھی متفق ہوگئیں اوردونوں جماعتوں نے انڈسٹریل ایریاز کی حالت بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔معاہدے کے مطابق دونوں جماعتیں صحت اورتعلیم کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پرسرمایہ کاری کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔دونوں جماعتوں کے معاہدے کے تحت حیدرآباد یونی ورسٹی بنانے پربھی اتفاق کیاگیاہے جبکہ متروکہ اراضی اور زمینوں کے معاملات کے حل کے لیے کمیشن بنانے پرمتحدہ او رپی پی پی متفق ہوگئی ہیں۔ معاہدے کے مطابق تمام سیاسی ایڈمنسٹریٹو اورمعاشی فیصلوں پر قانون کے مطابق عمل کیاجائے گا۔معاہدے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کنوینر ایم کیوایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے، تبدیلی کے اس سفر میں اب ہم ساتھ ہیں، امید ہے آنے والی تبدیلی ملک کے لیے اچھی ثابت ہوگی۔بلاول زرداری نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کراچی اور پاکستان کی ترقی کے لیے اچھا فیصلہ کیاوزیراعظم اپنی اکثریت کھو چکے ہیں، استعفیٰ دیں ،تمام قومی قیادت ایک صفحے پر جمع ہوچکی ہے ،تحریک عدم اعتماد پر کل ہی ووٹنگ کرائی جائے اور معاملے کو حل کرکے آگے بڑھا جائے، شہباز شریف جلد وزیراعظم منتخب ہوں گے، ہم نے غیرجمہوری طریقے سے منتخب حکومت کے جمہوری طریقے سے خاتمے کا بندوبست کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جھوٹ پر مبنی سیاست کا خاتمہ ہو گیا، ڈراؤ مت، تمہیں کسی نے کوئی دھمکی نہیں دی، تمہاری حیثیت کیا ہے جو تمہیں کوئی دھمکی دے یا تمہارے خلاف سازش کرے۔شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے، وزیراعظم استعفا دے کر نئی روایات قائم کرسکتے ہیں۔سردار اختر مینگل کاکہنا تھا کہ کافی عرصہ سے ہم نے کوشش کی وزیر اعظم ہٹ وکٹ ہوئے ہیں ،اب عالمی سازش کا چورن بکنے والا نہیں ، ہمیں وہ پاکستان چاہیے جس میں ہمارے بچے لاپتا نہ ہوں۔ آخر میں خالد مگسی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے معاہدے پر فوری عملدر آمد ہونا چاہیے۔
