تحریر : محمد امنان
ملک عزیز ہمیشہ کی طرح آجکل بھی نازک دور سے گذر رہا ہے۔ وسیع تر قومی مفاد میں اپوزیشن اور حکومت الگ الگ پیج پر ہیں۔ دونوں دھڑے ہی خود کو محب وطن ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگا رہے ہیں۔ اب تو اردو ادب کی طرح یہاں ملک خداداد میں بھی خط کے تذکرے ہیں
اس صورتحال میں وزیر اعظم عمران خان کا خطاب ہمیشہ کی طرح میں ، میں نے، مجھ سے، میرا سے شروع ہوا اور روایتی انداز میں ختم ہو گیا۔ یہ خطاب موخر ہوا اور پھر اچانک وزیر اعظم کا خطاب آگیا کہ میں قوم کو بتاوں کہ میں آجکل کر کیا رہا ہوں۔
تحریک عدم اعتماد سے شروع ہونے والا کھیل اب ملکی سلامتی اور بیرونی قوتوں کی جانب اشارہ کناں ہے۔ حکومتی ٹیم کا ماننا ہے کہ خط میں وزیر اعظم کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ جو سیدھا سیدھا ملکی سلامتی پہ حملہ ہے۔ کچھ حکومتی صحافی اللہ کی قسیمں کھا کر بتا رہے ہیں کہ یہ خط واقعی بہت خطرناک ہے۔
اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل ایج میں خطوط کے ذریعے دھمکیاں کون دیتا ہے؟ دوسری بات یہ کہ یہ خط ایسے وقت میں ہی کیوں آنکھ کا بال بن رہا ہے جب حکومت عددی اکثریت کھو چکی ہےکیا۔خیر جو بھی ہو وزراء دعویدار ہیں کہ خط تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہی موصول ہو چکا تھا۔ حکومت نے اس معاملے کو پارلیمان میں کیوں نہ رکھا؟؟؟ یا قومی سلامتی کمیٹی کا فوری اجلاس کیوں نہ طلب کیا؟؟؟ اگر معاملہ ملکی سلامتی کا تھا نہ کہ عمران خان کے اقتدار کو بچانے کا بہانہ تو یہ سب پبلک نہ سہی کم از کم اس کے بارے دیگر ذمہ دار حکام کو تو آگاہ کیا جاتا۔
عمران خان کا دعوی ہے کہ امریکہ کو ہوائی اڈے دینے سے انکار پر یہ خط بھجوایا گیا۔۔ لیکن امریکہ تو افغانستان سے نکل چکا۔۔ افغانستان سے یاد آیا امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کا کریڈٹ عمرانی حکومت نہیں لے رہی تھی؟؟؟ اگر امریکہ ہی وجہ ہے تو عمران خان نے مشیروں وزیروں کی امریکی شہریت کیوں نہ قربان کروائی؟؟ فیصل واوڈا، شہباز گل اور دیگر آج بھی امریکی شہری ہیں اور شہباز گل تو باقاعدہ تنخواہ وصول کر رہا ہے امریکہ کی یونیورسٹی سے جسے اس نے یہاں ڈیکئیر بھی نہیں کیا
اب بات کر لیتے ہیں حب الوطنی اور قومی سلامتی کی تو جناب من آپ کی یہ خودداری اور انا تب کہاں تھی جب تحریک لبیک والوں سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا تحریری معاہدہ کیا گیا تھا تب اسلاموفوبیا کے خلاف ایکشن کے کریڈٹ لینا یاد نہیں تھے؟؟؟
بادی النظر میں یہ خط بظاہر تو کسی اپنے بھیدی کا ڈرامہ لگ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے فارن آفس میں کوئی شریر موجود ہو جو اس خودساختہ خط کا موجد و موجب ہو۔ لیکن فی الحال یہ ساری صورتحال ایک طرح واضح ہے کہ عمران خان بھی دیگر حکمرانوں کی طرح اقتدار کا پیاسا ہے اور کسی صورت اقتدار کو جانے نہیں دے گا بھلے ہی ملک میں اسکے نام پہ مار کاٹ ہی کیوں نہ شرو ہو جائے۔
ملک میں سرپلس چلنے والی بجلی پانچ پزار میگا واٹ سے زائد کے شارٹ فال میں ہے۔ آٹا ، گھی، ادویات و دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری بھی غیر ملکی سازش ہے یا یہ بھی ایک قومی راز ہے جس پہ بات چیت ممنوع ہے ؟؟ کیونکہ تمام وزراء کا زور اس وقت صرف اور صرف خان کو عقل کل ثابت کرنے پہ ہے۔
خطوط سے متعلق ایک شعر یاد آگیا کہ خالد ندیم شانی لکھتے ہیں
“خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
دکھ زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے”
خط کا تراشا اتنا بڑا ہوا بن گیا ہے کہ دن رات اور ہر پریس کانفرنس میں خان کے وزیر اور ترجمان صحافی اس خط کو ایٹم بم بنا کر پیش کر رہے ہیں
اسی خط کی بابت وزیر اعظم عمران خان کا تازہ خطاب سنا جسمیں نہ اور ہاں کی شکل میں وزیر اعظم نے امریکہ کا نام لے دیا جس پہ یہ شعر صادق آتا ہے کہ
” نامہ بر ان سے میرا حال زبانی کہنا
خط نہ دینا کہ وہ اوروں کو دکھا دیتے ہیں”
کچھ صحافی اور وزراء دعویدار ہیں کہ یہ خط انہوں نے دیکھا ہے اور سبھی کے پاس ایک ہی پنچ لائن ہے کہ یہ خط قومی سلامتی کا مسلہ ہے عمران خان کو دھمکی دی گئی ہے۔ بھولے بادشاہو جس ملک نے یہ خط بھیجا ہے اسکا سفیر ہمارے پاکستان میں یا آپکا سفیر انکے ملک میں ہے بھی یا نہیں؟؟؟؟
خط کے چکر میں خط غربت اور گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے مگر اقتدار کی ہوس اور لالچ نے اس ملک کے حکمران اور اپوزیشن نے ایسا اندھا کیا ہے کہ یہ لوگ کچھ بھی کر گذرنے کو تیار ہیں۔ کچھ لوگوں کا بس نہیں چل رہا کہ صبح اعلان کر دیں کہ عمران خان کو قطب زماں کی بشارت دے دی گئی ہے یا عمران خان دور حاضر کا قلندر ہے نعوذ باللہ
خط اصل ہے یا نقل اسکا فیصلہ ملک کے ذمہ دار حکام کر لیں گے لیکن خط کی ٹائمنگ اور شور سے یہ خط عمران خان کے اقتدار کی ڈھال لگ رہا ہے ، میرا یہ خیال ہے
آپ کیا کہتے ہیں؟
