صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ اگر ہم استبول میں سربراہی اجلاس جنگ کے فریقین روسی صدر اور یوکیرینی صدر کے ساتھ جنگ کے خاتمے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ہماری لیے ایک عظیم سطح کی خوشی کی بات ہو گی۔
جناب ایردوان نے استنبول میں ایجنڈے کے حوالے سے اپنے جائزے پیش کیے۔
انہوں نے کہا کہ خاصکر کریمیا اور دونباس کے معاملے میں مثبت قدم اٹھائے جانے کے حوالے سے ہم نے دونوں سربراہان سے روابط قائم کرتے ہوئے ملاقات کی میزبانی کر سکنے کا اظہار کیا ہے۔ا س معاملے میں جناب زیلسنکی کے نظریات مثبت ہیں ، جبکہ جناب پوتن کا مؤقف بھی مثبت ہے۔ اس کی تاریخ کا تعین وہ دونوں خود کریں گے۔
ہمیں ترکیہ کی حیثیت سے بہت خوشی ہو گی اگر ہم اپنے استنبول میں اس طرح کے کسی سربراہی اجلاس کا انعقاد کر سکیں اور اس کے نتیجے میں دو رہنماؤں کے ساتھ اس منفی رجحان کو مثبت میں بدلنے کا فیصلہ کیا جائے۔
بحیرہ اسود میں تیرنے والی بارودی سرنگوں کے بارے میں صدر ایردوان نے کہا: "ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن ہم احتیاط سے کام لینے پر عمل پیرا رہیں گے۔”
