گزشتہ ہفتے، ولادیمیر پیوٹن نے غیردوستانہ ممالک سے روسی گیس کی قیمت روبل میں ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ یوکرین حملے کی وجہ سے روس پر مغرب کی جانب سے عائد پابندیوں کے اثرات کا توڑ کر سکے۔روس کا مرکزی بینک، کریملن اور گازپرام (روسی گیس کمپنی)جو یورپ کی کل گیس درآمدات کا چالیس فی صد پورا کرتی ہے، سے توقع ہے کہ پیوٹن کو روبل میں ادائیگی کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کریں گی۔”ہم مفت میں گیس نہیں دیں گے ، یہ تو بالکل واضح ہے،”کریملن کےترجمان، دمتری پیسکوف نےمنگل کو روز پریس کانفرنس میں بتایا۔”ہمارے جیسی صورتحال میں، نہ تو یہ مناسب ہے اورنہ ہی ممکن کہ ہم خیرات کرتے پھریں(یورپی صارفین کے لیے)”روبل میں ادائیگی کے نئے میکانزم پر بات کرتے ہوئے، پیسکوف نے کہا ” مختلف طریقہ ہائے کار وضع کیے جار رہے ہیں تاکہ معزز یورپی اور عالمی خریداروں کے لیے یہ نظام سادہ، قابل فہم اور قابل عمل ہو”
"پیوٹن نے ایک واضح پیغام بھیجنے کی کوشش کی ہے-اگر آپ کو ہماری گیس کی ضرورت ہے تو ہماری کرنسی خریدیں” میخائل سباستیان نے کہا، جو لندن میں رہنے والے ” پولیٹکل رسک کنسلٹنٹ ” (political risk consultant() ہیں ۔” جس قدر پابندیاں سخت ہوتی جاتی ہیں، امریکی ڈالر اور یورو ،اسی قدر ماسکو کے لیے اپنی قدر کھوتے جا رہے ہیں”انہوں نے ٹی آر ٹی ورلڈکو بتایا۔ بہرحال،جرمن چانسلر اولاف شلز کوایک کال کےدوران ، نیوٹن نے اپنے روبل والے تقاضے سے پیچھے ہتنے کا عندیہ دیا ہے۔اس نے تجزیہ نگاروں کی اس بات کو سچ ثابت کیا کہ ماسکو اور یورپی ممالک کے درمیان لڑائی "مرغوں کی لڑائی ہے۔”
لیکن روس کے تقاضے نے پہلے ہی سے” محفو ظ رسد ” کے بارے میں فکر مندی پیدا کر دی ہے، جبکہ کمپنیاں اور یورپی یونین کی اقوام ممکنہ نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے جلد بازی میں منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔جرمنی نے ،جوکہ خاص طور پر، روسی گیس پر انحصار کرتاہے، کل گیس سپلائی کے لیے”پیشگی ایمرجنسی” کا اعلان کرتے ہوئے گیس کی راشن بندی کےعمل کے قریب ہوتا جارہا ہے۔
کون پہلے ٹمٹائے گا
یورپی یونین کی بعض ممبر ریاستوں نے کہا ہےگزشتہ ہفتے کی روسی ڈیمانڈ، سپلائی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ واضح نہیں ہےکہ کیاروس موجودہ معاہدوں کو کاٹ دینا چاہتاہے جو گیس کی قیمت یورو اور ڈالر میں مقرر کرتے ہیں؟ "گازوپرام "کےمطابق، یورپ اور دوسرے ممالک کو اس کی 58 فیصد گیس کی سپلائی کی قیمت یورو میں طے ہوئی تھی،جبکہ اسکی فروخت کا انتالیس فی صد امریکی ڈالر میں طے تھا۔ برطانوی پاؤنڈ بقیہ تین فی صد کے لیے بچتاہے۔ ” میرا اندازہ ہےکہ روس جوابی دلیل کے طورپر کہے گاکہ اس کےلیے پابندیاں تباہ کن عامل ہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ثالثی کرنےوالے اس سے متفق ہوتے ہیں،اگر چہ مجھے اس میں شبہ ہے،” آندرےبیلی نے،جو ایسٹونیا انرجی کنسلٹنسی کا بانی ہےٹی-آر-ٹی ورلڈ کو بتایا۔ "ستم ظریفی یہ ہےکہ یورپی یونین بھی روسی گیس سپلائی میں کمی کا کہہ کر اس سال کے آخر میں معاہدے کو توڑنا چاہتی ہے۔ ” لگتا ایسے ہے جیسے روس اس ڈیمانڈ میں، دوسری اجناس کی برآمدات کو بی شامل کرلے گا۔
کل،ایک چوٹی کےروسی قانون ساز ، ویاچس لاف وولوڈن نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں، جہاں تک ایسا کرنا سودمند ہو سکتا ہے،روبل میں ادائیگی کو تیل، غلے، دھاتوں کھاد، کوئلے اور لکڑی تک پھیلایا جائے۔ ایک مثال کے طور پر، جہاں ماسکو دنیا میں، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ، اجارہ داری جیسی فوقیت رکھتا ہے ، ان میں سے ایک نکل ہے جو ایک ایس دھات ہے جو کار کمپنیاں کیٹلائیٹک کنورٹر (catalytic convertor) بنانے میں استعمال کرتی ہیں۔ ۔ پوری دنیا کی نکل سپلائی میں روس کا حصہ تقریباً چالیس فی صد ہے اور روس کی نوے فی صد پیداوار آٹوموٹیو صنعت کو جاتی ہے۔
سیاسی ترغیبات
سباستیان یقین رکھتا ہے کہ روسی روبل ادائیگی کے تقاضے کےپیچھے "سیاسی محرکا ت” ہیں، اگر چہ اس سے روسی کرنسی کے اوپر جا نے میں بھی مدد ملے گی،جو کہ پابندیوں کےنفاذ کی وجہ سے کافی حد تک گر چکی ہے۔ روبل کے لیےبےتاب ماسکو، مختصر مدت کی سیاسی مجبوری کے طور پر، یورپ کو گیس سپلائی کاٹ دینے کا سخت گیر کھیل بھی کھیل سکتاہے، جو کہ ،ہو سکتا ہےکہ داخلی طور پر بہتر ثابت ہو، لیکن یہ اس کے طویل مدتی معاشی مفادات کو خطرےمیں ڈال سکتاہے۔بائیلی کا کہنا ہے کہ کریملن کی چال کے حساب کتاب پر انگلی رکھنا مشکل ہے۔
اس کا مشاہدہ ہے کہ گزشتہ ہفتے،روس کے مقبول عام ٹی وی چینلز پر، گیس کی ادائیگیوں کا معاملہ چھایا رہا۔”ماسکو یورپ سے سنجیدہ گیس وار کے لیے رائے عامہ ہموار کر رہا ہے۔ ” اس نےکہابہر حال ،کل ایسا نظر آیا کہ کریملن اپنے موقف میں نرمی پیدا کر رہا ہے۔”خالصتاً کاروباری نقطہ نظر سے”،گازوپروم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘سپلائی کاٹ دینا سودمند نہیں ہے۔اور پھر یہ مہنگا بھی ہے،تقریباً چار سو ڈالر یومیہ کے آپریشنل اخراجات اس پر آتے ہیں” ، بائیلی کا کہنا ہے۔ ” بہرحال، جیسا کہ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ سیاسی منطق عموماً معاشی منطق پر حاوی ہوتی ہے۔”
اتوار، 3 اپریل 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post روس ،گیس کی ادائیگی روبل میں کیوں چاہتا ہے؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
