English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر ۔ منحرفین کی تا حیات نا اہلی کا ریفرنس سماعت کیلیے مقرر

القمر

اسلام آباد (نمائندہ جسارت/ صباح نیوز) پی ٹی آئی نے عدالت عظمیٰ کے 7 اپریل کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کردی جبکہ منحرفین کی تاحیات نااہلی کا صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے 12 اپریل کو مقرر کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابقعدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ کے7 اپریل 2022ء کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست عدالت عظمیٰ میں دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں 5 رکنی بینچ کے7 اپریل کا حکم واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ قومی اسمبلی کو آرٹیکل 69 کے تحت ٹائم ٹیبل نہیں دے سکتی‘ تحریکِ عدم اعتماد یا وزیرِ اعظم کا انتخاب 1973ء کے آئین میں تفصیل سے لکھا گیا ہے‘ عدالت عظمیٰ کو اختیار نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے معاملات کو کنٹرول کرے‘ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے آرٹیکل 5 کے تحت رولنگ دی، یہ رولنگ آئینی تھی۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر کے اسے واپس لے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 7 اپریل کے فیصلے کے تحت اسمبلی میں ہونے والی کارروائی کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ جمعرات 7 اپریل کو عدالت عظمیٰ نے قومی اسمبلی کو بحال کر دیا تھا‘ عدالت عظمیٰ نے ڈپٹی اسپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ آئین کے خلاف قرار دے کر کالعدم کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ میں آئین کے آرٹیکل63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا جس کی سماعت 5 رکنی لارجر بنچ12اپریل کو دن ایک بجے کرے گا۔ صدارتی ریفرنس میں منحرف اراکین قومی اسمبلی کی نااہلی کی مدت سے متعلق عدالت عظمیٰ سے تشریح کی درخواست کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل63 اے میں درج نہیں کہ منحرف رکن کتنے عرصے کے لیے نااہل ہو گا‘ وفاداری تبدیل کرنے پر آرٹیکل62 ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہونی چاہیے‘ ایسے ارکان پر ہمیشہ کے لیے پارلیمنٹ کے دروازے بند ہوں۔صدارتی ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ووٹ خریداری کے کلچر کو روکنے کے لیے63 اے اور62 ایف کی تشریح کی جائے اور منحرف ارکان کا ووٹ متنازع سمجھا جائے‘نااہلی کا فیصلہ ہونے تک منحرف ووٹ گنتی میں شمار نہ کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے