بنگلور (انٹرنیشنل ڈیسک) کرناٹک میں حجاب کے تنازع کے بعد انتہا پسندوں نے اب مسلمان ٹیکسی ڈرائیوروں، سیاحتی کمپنیوں اور پھل فروشوں کے بائیکاٹ کیلیے ہندوؤں پر دباؤ بڑھا نا شروع کردیا۔ انتہا پسندی میں تمام حدود پار کررہا ہے بالخصوص مسلم دشمن اقدامات نے دنیا بھر میں اس کے نام نہاد سیکولر ازم کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کرناٹک میں دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ بھارت رکھشنا ویدیکے نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمان ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹور اور ٹریول آپریٹرز کی خدمات نہ لیں۔بھارت رکھشنا ویدیکے گروپ کے ارکان نے بنگلور سمیت کرناٹک کے گھروں کا دورہ کیا اور ہندوؤں سے کہا کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات استعمال نہ کریں۔ بھارت رکھشنا ویدیکے کے سربراہ بھرت شیٹی کا کہنا تھا کہ کہ کورونا کی عالمی وبا میں لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے ہندو ڈرائیور مالی مشکلات کے باعث اپنی ٹیکسیاں بیچنے پر مجبور ہوئے۔ اکثریتی برادری کا فرض ہے کہ وہ پہلے اپنے لوگوں کا خیال رکھے۔ دوسری جانب حکومت نے اس اپیل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ، سیاسی رہنماؤں نے اسے پس پردہ حکومتی مہم قرار دیا ہے ۔جے ڈی ایس کے رہنما ایچ ڈی کماراسوامی نے بائیکاٹ کی اپیل کو نسل پرستی اور ملک سے غداری قرار دیا ہے۔
