English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے غیر ملکی مبینہ خط کی تحقیقات کا اعلان کردیا

القمر

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے غیر ملکی مبینہ خط کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر پارلیمان کی سیکیورٹی میں ان کیمرا بریفنگ دی جائے گی۔ اجلاس میں عسکری قیادت، ڈی جی آئی ایس آئی، خط لکھنے والے سفیر اور تمام اراکین پارلیمنٹ موجود ہونگے۔

پاکستان کا 23ویں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ایوان سے اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میری زرداری صاحب اور بلاول سے ملاقات مارچ کے اوائل میں ہوئی تھی لیکن ایک خط پر ڈرامہ کیا گیا، پتا نہیں کون سا خط آیا؟ میں نے ابھی تک وہ خط نہیں دیکھا نہ کسی نے مجھے دکھایا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر ثابت ہو جائے کہ عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانا سازش تھی تو میں اپنے عہدے سے مستفی ہو جائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جلد از جلد ان کیمرا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی۔ اس ایوان نے ایک سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیج دیا۔ سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے جانے کے بعد ڈالر 8 روپے سستا ہوا۔ ملکی معیشت کی کشتی کو بچانا ہے تو اتحاد، اتفاق اور محنت واحد نسخہ ہے۔ ملکی معیشت اس وقت گھمبیر حالات میں ہے۔ تبدیلی باتوں سے نہیں آتی۔ تقسیم سے نہیں بلکہ تفہیم سے کام لینا ہوگا۔

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ہمیں ادارک ہے کہ ملک کی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ پچھلی حکومت نے جو کچھ چھوڑا، ہمارے پاس آنسوئوں، آہوں اور سسکیوں کے سوائے کچھ نہیں ہے۔ عوام کے دکھ درد کے مداوے کیلئے ہم یکم اپریل سے کم از کم ماہانہ اجرت میں 25 ہزار روپے کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے پنشن میں بھی 10 فیصد تک اضافے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہباز شریف کو پارلیمنٹ کا نیا قائد ایوان چن لیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کو نامزد کیا تھا تاہم پوری جماعت کے اراکین نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔

نیا وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 342 نشستوں پر مشتمل نیشنل اسمبلی میں کم از کم 172 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ شہباز شریف کو 174 ارکان نے ووٹ دیا۔

اس سے قبل فواد چودھری نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ تمام اراکین اسمبلی آج اپنے استعفے سپیکر کو جمع کرائیں گے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے پارٹی اراکین کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ اپنے نامزد وزیراعظم شاہ محمود قریشی کو ووٹ دیں۔ اسد عمر نے اپنے خط میں متنبہ کیا تھا کہ ہدایات کی کسی بھی خلاف ورزی پی ٹی آئی سے انحراف کے مترادف ہوگی اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی کا باعث بنے گی۔

قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لینا ایک ناجائز حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے، اس لئے ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے۔ میں وزیراعظم کے انتخاب کے عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں۔ پارٹی کے فیصلے کے تحت ہم سب اسمبلی سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کررہے ہیں، اس موقع پر پی ٹی آئی ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلےگئے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سازش کے ذریعے پاکستان پر ایک منصوبہ مسلط کیا جارہا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ عمران نے کیا دیا ؟میں کہتا ہوں عمران نے قوم کو خودداری کا سبق اور سر اٹھانے کا درس دیا، صحت کارڈ کے ذریعے غربت اور بیماری سے بچانےکا اہتمام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، کل پورے پاکستان میں لوگوں نے عمران خان کی کال پر عوام نے لبیک کہا اور ساتھ چلنے کے عزم کا اظہار کیا، آج کوئی جیت کر بھی ہارے گا اور کوئی ہار کر بھی جیتے گا، آج الیکشن ہوگا، کوئی کامیاب ہوگا اور کوئی آزاد ہوگا۔

اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھی وزیراعظم کا انتخاب کرانے سے معذت کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں اس کارروائی کا حصہ بنوں، قاسم سوری نے بھی ایوان کی کارروائی ایاز صادق کے حوالے کرتے ہوئے اسپیکر کی نشست چھوڑ دی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدم اعتماد کی رولنگ مسترد کرنےکا فیصلہ محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اور قومی اسمبلی کے محافظ اور سپیکر کی حیثیت سے کیا۔ وفاقی کابینہ، قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں غیر ملکی مراسلہ زیر بحث لایا گیا جس میں اس بات کی تائید کی گئی کہ وزیراعظم کے خلاف جو تحریک عدم اعتماد لائی گئی وہ ایک غیر ملکی سازش ہے۔

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے آخری اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مراسلہ ڈی کلاسیفائیڈ کیا جائے، میں وفاقی کابینہ کی اجازت سے ڈی کلاسیفائیڈ مراسلہ قومی اسمبلی کی جانب سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو سِیل کرکے بھجوارہا ہوں۔

انہوں نے مراسلہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس مراسلے میں واضح طور پر تکبرانہ طریقے سے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوتی تو پاکستان کو سنگین حالات سے گزرنا پڑے گا اور اگر کامیاب ہوگئی تو آپ کو معاف کردیا جائے گا۔ کیا عمران خان کا یہ قصور تھا کہ انہوں نے آزاد خارجہ پالیسی کی بات کی، آزاد معیشت کی بات کی، ہمارے پیارے نبی ﷺ کی حرمت کی بات کی، اسلاموفوبیا کا مقدمہ لڑا، کیا یہ ملک غلامی کرنے کے لیے ہے ؟ کیا ہم آزاد ملک نہیں ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے