نئی دہلی/ سرینگر (صباح نیوز) بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی خصوصی عدالت میںجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک، حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، حریت کانفرنس کے وائس چیئرمین شبیر احمد شاہ سمیت 11 کشمیری رہنمائوں کے خلاف 18پریل کو باقاعدہ فردجرم عاید کی جائے گی ۔ ان رہنمائوں میں محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، سابق رکن اسمبلی انجینئر رشید، تاجر ظہور احمد وٹالی، فاروق احمد ڈار، آفتاب احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، نعیم احمد خان، بشیر احمد بٹ، پیر سیف اللہ شامل ہیں۔ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ان رہنماؤں پر بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور غیر قانونی فنڈنگ کے الزامات ہیں ۔واضح رہے کہ عدالت نے کامران یوسف، جاوید احمد بٹ اور سیدہ آسیہ اندرابی کو ان الزامات سے بری کر دیا ہے۔19مارچ کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین، حافظ سعید، اور دیگر کے خلاف بھارت کے خلاف مجرمانہ سازش کرنے ، بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات عاید کرنے کا حکم دیا تھا۔16مارچ کے حکم میں، این آئی اے کے خصوصی جج پروین سنگھ نے کہا تھا،’’مذکورہ تجزیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گواہوں کے بیانات اور دستاویزی ثبوتوں نے تقریباً تمام ملزمان کو ایک دوسرے سے اور علیحدگی کے ایک مشترکہ مقصد سے جوڑ دیا ہے۔ علاوہ ازیں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صحافی آصف سلطان پرجنہیں 4 سال بعد رواں ہفتے کے شروع میں ضمانت ملی تھی،کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرکے جموں کی کوٹ بھلوال جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ بھارتی پولیس نے آصف سلطان کو 27اگست 2018کو گرفتار کیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ دوسرے صحافی ہیں جنہیں حال ہی میںپبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کردیا گیا ہے۔ رواں سال کے شروع میں سرینگر کے ضلع مجسٹریٹ محمد اعجاز نے صحافی فہد شاہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیاتھا اور وہ کپواڑہ جیل میں ہیں۔
The post یاسین ملک و دیگر کشمیری رہنمائوں پر 18 اپریل کوفردجرم عاید کی جائیگی appeared first on Daily Jasarat News.
