English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قرآن کو ترجمے کے ساتھ نہ پڑھنے کی وجہ اساتذہ اور ہمارا تعلیمی نصاب ہے

القمر

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) قرآن کریم کو ترجمے کے ساتھ نہ پڑھنے کی وجہ اساتذہ اور ہمارا تعلیمی نصاب ہے‘ قرآن کے مقابلے میں ظن و گمان، اقوال الرجّال اور غیر مستند لٹریچرکو اہمیت دیتے ہیں ‘مسلمانوں نے اسلام کو رسمی طور پر اختیار کرلیا ‘ قرآن سمجھ کر پڑھنا ترجیحات میں شامل نہیں ‘ حکمرانوں نے عوام کو قرآن سے دور رکھا ‘ بعض دیندار افراد بھی قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا گمراہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان خیالا ت کا اظہار امیر جماعت اسلامی بلوچستان، شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالحق ہاشمی، معروف مذہبی اسکالر اور تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر مولانا شجاع الدین شیخ، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، جامعہ صفہ کراچی کے مہتمم و معروف مذہبی اسکالر مولانا مفتی محمد زبیر اور کریکٹر ایجوکیشن فائونڈیشن پاکستان کراچی کے ایمبیسیڈر، پاکستان ترکی بزنس فورم کے بانی و صدر معروف ماہر معاشیات محمد فاروق افضل نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’مسلمانوں کی اکثریت قرآن کو ترجمے کے ساتھ کیوں نہیں پڑھتی؟‘‘ مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت قرآن پاک کو ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھتی ہے‘ اصل میں کسی بھی چیز کا ذوق اور شوق آہستہ آہستہ انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے اور اس میں والدین کا بھی بہت بڑا کردار ہے پھر ہمارا تعلیمی نصاب، اساتذہ، اسکول اور جتنے بھی تعلیمی مراحل ہیں ان کا بھی کردار شامل ہوتا ہے‘ بدقسمتی سے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نہ ہمارے گھروں میں اس طرح کا باقاعدہ کوئی رواج ہے اور نہ ہی والدین کی طرف سے اس کا کوئی شوق دلایا جاتا ہے کہ بچے قرآن کریم کی اہمیت کو سمجھیں‘ جب بچہ اسکول جاتا ہے تو وہاں بھی آپ یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید کو محض ایک ناظرہ کی حد تک پڑھایا جاتا ہے یہ پڑھ کر بچہ سمجھتا ہے کہ اس نے قرآن کریم کا حق ادا کر دیا ہے حالانکہ یہ بنیادی مرحلہ ہے۔ پرائمری تعلیم پھر اس کے بعد میٹرک تک کی تعلیم کے دوران اگر باقاعدہ قرآن کی اہمیت اور قرآن کے ساتھ ایک محبت اور دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور اساتذہ کی طرف سے اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے تو معاشرہ اسلامی خطوط پر استور ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشیات، معاشرت، سائنس اینڈ ٹیکنالوجیسے متعلق قرآن کریم کے انکشافات حیرت انگیز ہیں‘ اگر تعلیمی نصاب میں قرآن کو ترجمے کے ساتھ شامل کرلیا جائے تو لوگوں کو خود اس بات کا احساس ہوگا کہ ہمیں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے‘ یہ کوئی ایک دو دن کا کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے جس پر حکومت اور مذہبی و سماجی اداروں کو عمل کرنا چاہیے۔ مولانا شجاع الدین نے کہا کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت قرآن کریم کو ترجمے کے ساتھ کیوں نہیں پڑھتی ہے تو اس کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دین اسلام کو بس رسم کے طور پر اختیار کیے بیٹھی ہے‘ قرآن حکیم کھولنا، اس کی تلاوت کرنا اور اس کو سمجھنا یہ ترجیحات میں شامل نہیں ہے‘ ماہ رمضان کی برکتوں کی وجہ سے معاشرے میں تو کچھ تلاوت کا معمول دکھائی دیتا ہے لیکن لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کیا تلاوت کر رہے ہیں؟ وہ کیا سن رہے ہیں؟ پہلی بات یہ کہ قرآن حکیم کو ایک رسمی کتاب کے طور پر اختیار کرنا۔ دوسرا یہ کے عوام کی اکثریت قرآن کریم کو صرف ثواب کی کتاب سمجھتی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے نظام تعلیم میں بھی دنیاوی علوم کو اہمیت حاصل ہے‘ اسلامی علوم واجبی طور پر پڑھائے جاتے ہیں لیکن توجہ اس بات پر نہیں ہوتی کہ قرآن حکیم کو ترجمے کے ساتھ پڑھایا جائے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ دور ملوکیت میں اور بعد کے ادوار میں جب مسلم دنیا میں ظالمانہ نظام رہا اس دوران ظالم جابر حکمران نے بھی لوگوں کوقرآن حکیم سے دور کرنے کی کوشش کی۔ پانچویں بات یہ ہے کہ ہمارے بعض دینی طبقات نے ایک پہلو کے اعتبار سے کوشش یہ کی ہے کہ ہر کوئی قرآن حکیم کا ترجمہ اور تفسیر بیان نہ کرے اور یہ بات خاصی حد تک ٹھیک بھی ہے کہ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے‘ کوئی عام شے نہیں ہے لیکن اس احتیاط پر توجہ دلانے میں بعض اوقات معاملہ اس قدر آگے چلا گیا کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ قرآن حکیم کا ترجمہ پڑھیں گے تو ہم گمراہ ہو جائیں گے‘ عجیب بات ہے کہ عالم عرب میں توکوئی ترجمے کا مسئلہ نہیں ہے‘ کیا وہاںعربی میں قرآن کی تلاوت کرنے پر پابندی لگائی جائے گی بلکہ یہ کہا جائے کہ ترجمہ تشریح اور مطالعہ ضرور کیا جائے‘ اہل علم سے بھی روابط رکھے جائیں‘ مستند علما کو بھی سنا جائے لیکن سرے سے ہی قرآن حکیم کے ترجمے پر پابندی لگا دی جائے یہ بات بالکل درست نہیں ہے ‘ آخری بات یہ ہے کہ پاکستان کی اگر میں بات کروں تو اللہ کا شکر ہے کہ بہت سے اداروں اور شخصیات کی کوششوں سے اب عوام الناس میں قرآن حکیم ترجمے اور تشریح کے ساتھ پڑھنے کا رجحان بڑھا ہے۔ مفتی محمد زبیر نے کہا کہ ایک قرآن کریم کتاب تلاوت اور کتاب ہدایت ہے چنانچہ قرآن کریم کا تعارف کرواتا ہے ترجمہ: کہ یہ انسانوں کے لیے ہدایت اور ضابطہ حیات ہے اور اندھیروں سے روشنی کی طرف منتقل کرنے والی کتاب ہے‘ آج کا امت مسلمہ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اسے سمجھ کر نہیں پڑھتی ہے‘ اس بات کی ضرورت ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کی اہمیت اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے بھی زیادہ قرآن کریم کی تفسیر، ترجمہ اور مفہوم کی اہمیت کو بھی اجاگر کرنا چاہیے‘ امت مسلمہ اس کو ترجمہ کے ساتھ اس لیے نہیں پڑھتی کیوںکہ ان کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے‘ ہم اپنے کاروبار، سیاست اور عدالت کے امور قرآن کریم کی روشنی میں ادا کریں تو زیادہ بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں‘ مسلمانوں کی اکثریت قرآن کا ترجمہ و تفسیر اس لیے نہیں پڑھتی کیوں کہ ترجمہ کو پڑھ کر جو لطف آتا ہے وہ اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہیں۔ محمد فاروق افضل نے کہا کہ دین دار طبقے کے بعض افراد نے مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور وہ عربی زبان میں ہے اس لیے اس کلام کا سمجھنا ہر ایک مسلمان کا کام نہیں ہے‘ تم صرف قرآن کی ناظرہ تلاوت کر کے برکت و ثواب حاصل کرتے رہو چونکہ یہ بات بظاہر سہل اور آسان ہے اس لیے ہدایت کی خاطر قرآن سمجھ کر پڑھنے کی زحمت سے بچنے کے لیے عوام نے اس کو برکت و ثواب کی کتاب بنا لیا ہے اور قرآن کے مقابلے میں ظن و گمان، اقوال الرجّال اور غیر مستند لٹریچرکو اہمیت دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ پرست بننے کے بجائے شخصیت پرستی میں غرق ہوتے چلے گئے ہیں‘ ہماری لاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ بجائے قرآن پڑھنے کے ہم صبح اٹھتے ہی اخبار پڑھتے ہیں یا پسندیدہ لٹریچر، اس کے علاوہ ٹی وی کے لیے گھنٹوں برباد کرتے ہیں‘ مستقبل سنوارنے کے لیے مختلف علوم و فنون کی کئی کتابیں سمجھ کر پڑھتے ہیں لیکن قرآن کی ایک ، دو آیات کو سمجھ کر پڑھنے کے لیے ہمیں فرصت نہیں ہے جس کا نتیجہ نکلا کہ دنیا کی خوشحالی کا حصول مقصد زندگی بن گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے