نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی 4ریاستوں میں فسادات میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کیے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔ ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔ فسادات کے بعد مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گجرات میں ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے حملے روکنے کے بجائے مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔ دوسری جانب دارالحکومت نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں انتہا پسند ہندو جماعت کی طلبہ تنظیم نے ہوسٹل میں گوشت سے بنے پکوان کھانے پر طلبہ اور طالبات کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انتہا پسند ہندو طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد کے غنڈوں نے نہرو یونیورسٹی کے ہوسٹل میں حملہ کرکے طلبہ کو زدوکوب کیا۔ غنڈوں نے طلبہ اور طالبات سرعام سڑک پر گھسیٹا ، جس سے اکثر طلبہ زخمی ہوئے ۔ قریبی اسپتال منتقل کیے گئے افراد میں ایک طالبہ کی حالت نازک ہے۔اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد نے ہوسٹل میں گوشت سے بنے پکوان کھانے پر پابندی عائد کردی تھی تاہم طلبہ کی اکثریت نے اسے مسترد کردیا تھا جس پر انتہا پسند جماعت کے غنڈوں نے حملہ کردیا۔
