لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف انتخابی اصلاحات کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کریں، واشنگٹن لیٹر اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ عدالتی کمیشن بنائیں، عمران خان دور کے کالے قوانین کا خاتمہ کریں، قومی ترجیحات، قومی سلامتی اور امریکا، بھارت، اسرائیل کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے کے لیے قومی ڈائیلاگ اور متفقہ قومی حکمت عملی بنائی جائے۔ جلد از جلد انتخابات ہی حل ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں نئی اتحادی حکومت بن گئی۔ صدرِ پاکستان نے وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی طرح غیرجمہوری اور غیراخلاقی راستہ اختیار کیا۔ نئی اتحادی حکومت کے لیے حالات کانٹوں کی سیج ہے۔ اتحادیوں کو اکٹھا رکھنا، اِن کے مفادات پورے کرنا عملاً ناممکن ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سرکار اکثریت کھوکر اقلیت میں چلی گئی۔ منحرف ارکان کے علاوہ حکومت کے ارکان نے اکثریت ثابت کردی۔ عمران خان کا دورِ اقتدار سیاسی، پارلیمانی، اقتصادی، داخلہ و خارجہ پالیسی اور قومی وحدت و یکجہتی کے اعتبار سے ناکام دور تھا۔ تبدیلی، سونامی احتساب اور کسی کو نہیں چھوڑوں گا کے نعرے بے کار، کھوکھلے ثابت ہوگئے۔ اب نئے بیانیہ کا چورن تیار کیا جارہا ہے۔ امریکا، یورپ، اسرائیل اور بھارت کے ریلیف کے لیے عمران خان دورِ اقتدار سہولت کار بنارہا اور چین، سعودی عرب، ایران، ترکی، ملائیشیا جیسے باعتماد دوستوں سے دوری پیدا کی گئی۔ سابق حکومت کی ناکامیاں نوشتہ دیوار ہیں۔ ازسر نو جذباتی ماحول پیدا کرنا اب ممکن نہ رہے گا۔ تلخ اور شدت پسند بیانیہ حالات کے بگاڑ کا باعث ہی بنے گا۔ لیاقت بلوچ نے علما، مشائخ اور سماجی رہنماؤں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روزہ اور قرآن پوری اُمت کو اتحاد کا درس دیتا ہے۔ ماہِ رمضان میں تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کے لیے نیکیاں اختیار کی جائیں اور منکرات کو چھوڑ دیا جائے۔ اللہ کو بندہِ مومن کی صرف بھوک اور پیاس ہی نہیں تقویٰ کے اعمال پسند ہیں۔ ملت اسلامیہ میں ماہِ رمضان کی برکات نئی زندگی، نئی اُمید اور اسلام سے غیرمتزلزل تعلق کا ماحول پیدا کردیتا ہے۔ ماہِ رمضان میں ہی قیامِ پاکستان بڑی نعمت اور انمول تحفہ ہے۔
